خطبات محمود (جلد 28) — Page 322
خطبات محمود 322 سال 1947ء پیدا ہو جائے گی اُس دن خدا تمہیں نظر آ جائے گا۔جس دن یہ روح تم میں پیدا ہو جائے گی اُس می دن فرشتے تم سے باتیں کریں گے۔جس دن یہ روح تم میں پیدا ہو جائے گی اُس دن دنیا کی محبت تم پر سر د ہو جائے گی۔جس دن یہ روح تم میں پیدا ہو جائے گی اُس دن موت تم کو خوشکن چیز نظر آئے گی۔اسی طرح جس طرح صحابہ کو نظر آئی۔پس اپنے اندر یہ احساس پیدا کرو کہ خدا نے تم کو ایک بہت بڑے کام کے لئے پیدا کیا ہے اور جب تک وہ کام پورا نہیں ہو جاتا تمہاری زندگی بالکل عبث ہے۔جب آقا اپنے خادم کو کہتا ہے کہ جاؤ اور فلاں کام کرو تو اُس وقت اگر اس کی بیوی اسے کوئی اور کام بتاتی ہے تو وہ اس کی بات نہیں مانتا۔مگر وہ آقا تو ایسا ہوتا ہے کہ پندرہ یا ہمیں روپے دینے والا ہوتا ہے اور یہاں وہ آتا ہے جس نے ہمیں بھی پیدا کیا اور ہمارے باپ دادا کو بھی پیدا کیا اور ان کے باپ دادا کو بھی پیدا کیا اور جو ہماری آئندہ نسلوں کو بھی پیدا کرے گا اور جس نے ی اس دنیا میں بھی ان سب کی پرورش کی اور ان کو اپنی ربوبیت کے فیضان سے حصہ دیا اور جو مرنے کے بعد بھی ان کے ساتھ ابد الآباد کی زندگی میں اچھا سلوک کرے گا۔ایسے آقا کو کون ڑسکتا ہے؟ ایسے آقا کی آواز سے کون منہ موڑ سکتا ہے؟ کاش ! تم اس نکتہ کو سمجھ لو۔پھر تمہارے لئے فکر کی کوئی بات نہیں۔پھر احمدیت کی فتح اور جلد ہی فتح یقینی اور قطعی ہے۔“ چھوڑسے (الفضل 5 اکتوبر 1947ء) 1 حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 595