خطبات محمود (جلد 28) — Page 290
خطبات محمود 290 سال 1947ء۔انصاف سے کام لیا ہے۔روپیہ میں سے اٹھتی ہم نے آپ کو دے دی ہے اور اٹھتی ہم نے دوسرے مسلمانوں کو دے دی ہے۔اور آپ نے کہا تھا کہ ہم اٹھنی پر راضی نہیں ہوتے ہم تو پورا روپیہ لے کر چھوڑا کرتے ہیں۔آج اُس بقیہ اٹھنی میں سے ایک اور چوٹی آپ کی خدمت میں بھجوا رہا ہوں اور آپ کی بیعت میں شامل ہوتا ہوں۔پھر اُنہوں نے اپنے حالات لکھے اور بتایا تی کہ گو میں پٹھان ہوں اور مذہبی جوش میرے دل میں ہے مگر جب میں نے یورپ کا مطالعہ کیا، میں نے اُن کے جنگی سامان دیکھے ، اُن کی تیاریوں پر نظر ڈالی ، اُن کا نظام دیکھا، اُن کا روپیہ دیکھا ، اُن کی تدابیر دیکھیں ، اُن کے علوم اور فنون دیکھے تو میں نے سمجھا کہ عیسائیت کا مقابلہ اب ایسا ہی ہے جیسے سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ ہو۔میرے دل میں اُس وقت بڑے زور سے یہ خیال پیدا ہوا کہ اسلام کی فتح کا خیال بالکل ڈھکوسلا ہے۔اسلام اب زندہ نہیں ہوسکتا۔کون ہے جو عیسائیت پر غالب آ سکے۔ایک مایوسی کا عالم مجھ پر طاری ہو گیا۔اور اسی حالت میں مجھے خیال آیا کہ چلو میرے ٹرنک میں جو چند مذہبی کتابیں پڑی ہیں اُنہی کو پڑھ کر دیکھوں کہ اُن میں کیا لکھا ہے۔اتفاقاً آپ کی کتاب دعوۃ الا میر میرے ہاتھ آگئی اور میں نے اُسے پڑھنا شروع کیا۔جب میں اُسے پڑھنے لگا تو اُس میں وہی مضمون آ گیا جس نے مجھے سخت پریشان کر رکھا تھا۔میں نے اُس میں بتایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے تنزّل اور عیسائیت کی ترقی کے متعلق یہ یہ پیشگوئیاں کی ہیں جو بڑی وضاحت سے پوری ہو چکی ہیں۔اور پھر اس کے بعد میں نے یہ مضمون لیا ہے کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی پیشگوئیاں بیان فرمائی ہیں کہ اس تنزل کے بعد اسلام پھر ترقی کرے گا اور اسلام کا ڈنکا ساری دنیا میں بجنے لگے گا۔میں نے وہاں لکھا ہے کہ تم جب اسلام اور مسلمانوں کے تنزل کو دیکھتے ہو تو تمہارے دلوں پر مایوسی طاری ہو جاتی ہے۔اور تم کہتے ہو کہ اسلام کس طرح دوبارہ ترقی کر سکتا ہے۔مگر تم اتنا نہیں ہے چتے کہ جیسے اسلام کی ترقی کی پیشگوئیاں اس زمانہ میں خلاف عقل معلوم ہوتی ہیں اسی طرح محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمانوں کے تنزّل اور عیسائیت کی ترقی کی پیشگوئیاں خلاف عقل معلوم ہوتی تھیں۔لیکن اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئیاں پوری ہو گئیں جو اسلام اور مسلمانوں کے تنزل کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں حالانکہ اسلام کی ترقی کے زمانہ میں