خطبات محمود (جلد 28) — Page 244
خطبات محمود 244 سال 1947ء اطلاع نہ دیتے ؟ چنانچہ میں نے اُس کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا۔اور کہا تم اِتنے نالائق آدمی ہو تی کہ اس قسم کے معاملات میں بھی ہنسی اور مذاق سے باز نہیں آتے جو ہماری محبت کے جذبات سے تعلق رکھتے ہیں۔لیکن ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ اگر اُس نے سچی بات کہی ہو تو مجھے اُس کے ساتھ جھگڑنے میں دیر ہو جائے گی۔چنانچہ میں ننگے سر اور ننگے پاؤں وہاں سے اڈے کی طرف بھاگا۔مگر تھوڑی دُور جا کر پھر مجھے خیال آیا کہ اُس نے مذاق ہی نہ کیا ہو۔چنانچہ میں پھر ٹھہر گیا اور پھر اُسے گالیاں دینی شروع کیں کہ تم ہمیشہ میرے ساتھ مذاق کرنے کے عادی ہو۔اُس نے کہا میں سچ کہتا ہوں کہ آپ کے مرزا صاحب اڈے پر پہنچ چکے ہیں۔میں نے کہا ہماری قسمت کہاں کہ آپ یہاں تشریف لے آئیں۔تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔وہ کہنے لگا تم مجھے گالیاں ہی نہ دیتے رہو۔مرزا صاحب تو وہاں سے چل بھی پڑے ہونگے۔جلدی جاؤ اور اُن لالی سے ملو۔یہ سن کر میں پھر اڈے کی طرف دوڑ پڑا۔مگر چند قدم چل کر پھر مجھے خیال آیا کہ اُس نے میرے ساتھ مذاق کیا ہے۔اس لئے میں نے پھر اُسے بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا۔اُس نے کہا تم مانو یا نہ مانومیں سچ کہ رہا ہوں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے مرزا صاحب کو اڈے پر دیکھا ہے۔اس پر میں پھر اڈے کی طرف بھاگا۔مگر ابھی میں راستہ میں ہی تھا کہ میں نے دیکھا سامنے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لا رہے ہیں۔اور میں خدا تعالیٰ کا شکر بجالایا۔اب دیکھو جس چیز کے ساتھ کسی کو محبت ہوتی ہے وہ اُس کے حاصل کرنے میں دیر نہیں کیا کرتا منشی اروڑے خان صاحب مرحوم کو یہ یقین نہ تھا کہ آپ تشریف لائے ہیں۔لیکن وہ محبت کی وجہ سے ادھر اُس اطلاع دینے والے کو برا بھلا کہتے تھے اور ادھر اڈے کی طرف بھاگتے تھے۔گویا اُن پر ایک اضطراب کی کیفیت طاری تھی۔پس جن لوگوں کے دلوں میں دین کی محبت ہوتی ہے وہ جلد سے جلد دین کے کاموں کو سرانجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔اور یہی ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ اُن کے دلوں میں خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول اور اُس کے دین کی سچی محبت موجود ہے۔اس لئے جو شخص دین کی خدمت کے لئے چندہ لکھواتا ہے وہ اگر سچا اور حقیقی مومن ہو تو اُس چندے کی ادائیگی کو اپنے لئے فخر کا موجب اور خدا تعالی کا ی فضل سمجھتا ہے۔اور یقین رکھتا ہے کہ میں جتنی جلدی اس فرض سے سبکدوش ہو جاؤں گا اتنا ہی زیادہ مجھ پر خدا تعالیٰ راضی ہو گا۔پس جماعت کے دوستوں کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے چھ ماہ کی میعاد تک