خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 202

خطبات محمود 202 سال 1947ء اور آج میں جماعت کے زمینداروں کو بلاتا ہوں کہ وہ سلسلہ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں اور اُن کو جو گزارے دیئے جائیں اُن کو انعام سمجھ کر کام کرتے چلے جائیں۔پس آج زمینداروں کے لئے موقع ہے کہ وہ سلسلہ کے لئے یا سلسلہ کے مفاد کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔میں یہ الفاظ یونہی نہیں بول رہا بلکہ ان میں ایک حکمت اور مصلحت ہے جس کا ابھی اظہار مفید نہیں۔بہر حال زمینداروں کو چاہئے کہ وہ سلسلہ کے لئے یا سلسلہ کے مفاد کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں اور جہاں ہم اُن کو بھیجیں وہاں جائیں اور جن حالات میں ہم ان کو رہنے کے لئے کہیں اُن حالات میں وہ رہیں۔اور جو فیصلے اُن کے گزارہ کے لئے ہم کریں وہ اُس پر اُسی خندہ پیشانی سے کام کریں جس خندہ پیشانی سے ہمارے دوسرے واقفین آجکل کام کر رہے ہیں۔ہمارے مبلغوں میں بعض بی۔اے ہیں، بعض ایم۔اے ہیں، بعض وکیل ہیں اور بعض انٹرنس (ENTRANCE) پاس ہیں۔ہم نے اُن میں سے ہر ایک کے حالات کے مطابق اُن کے گزارے مقرر کئے ہیں اور وہ گزارے نہایت غریبانہ ہیں۔اسی طرح زمینداروں میں سے جو لوگ اپنی زندگیاں وقف کریں گے ہم اُن کو ایسی جگہوں پر کام کرنے کے لئے لگائیں گے جو سلسلہ کے لئے مفید ہوں گی اور اُن کا کام زمیندارہ ہی ہو گا لیکن یہ کہ اُن کو کس جگہ کام کرنا ہوگا یا کیسے کام کرنا ہو گا یہ باتیں بعد میں بتائی جائیں گی۔ہو سکتا ہے کہ کسی جگہ ہم اُن کو گزارہ رقم کی صورت میں دے دیں اور کسی جگہ گزارہ غلے اور پیداوار کی صورت میں دے دیں۔مثلاً نصف پیدا وار سلسلہ کی اور نصف اُن کی۔یا دو تہائی اُن کی اور ایک تہائی سلسلہ کی۔یا اس سے کم و بیش ی کسی طریق سے۔یہ تفصیلات اس وقت بیان نہیں کی جاسکتیں اور نہ ہی اُن کا بیان کرنا مفید ہے۔مختلف حالات میں مختلف جگہوں پر کام کرنا ہو گا اور اس میں غلط نبی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔یہاں کوئی ملازمت کا سوال تو در پیش نہیں کہ بعد میں غلط نہی کا خطرہ ہو۔جو شخص زندگی وقف کرتا ہے ہے۔اُسے اس سے کیا مطلب ہے کہ اُسے زیادہ گزارہ ملتا ہے یا کم گزارہ ملتا ہے۔اُس نے تو یہ اپنی جان اللہ تعالیٰ کے سپر د کر دی۔اُسے اس بات کا کیا ڈر ہوسکتا ہے کہ میرے ساتھ کیسا سلوک ہو گا اور مجھے میرے کام کا کیا بدلہ ملے گا ؟ اُس کے کام کا بدلہ تو اسے اللہ تعالیٰ ہی دے گا اور وہ بھی اسی نیت سے زندگی پیش کرتا ہے کہ میرے کام کا بدلہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔مجھے بندوں کی