خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 145

خطبات محمود 145 سال 1947ء نگاہ صرف ان چیزوں تک ہی محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔کسی کی گندم پر نگاہ ہوتی ہے۔کسی کی پھلوں پر نگاہ ہوتی ہے۔کسی کی سونے پر نگاہ ہوتی ہے۔کسی کی چاندی پر نگاہ ہوتی ہے۔کسی کی نگاہ کسی چیز کی طرف کسی کی نگاہ کسی چیز کی طرف ہوتی ہے۔تو میری نگاہ اُن ہاتھوں پر ہوتی ہے جو کہ ان انعامات کو تقسیم کر رہے ہوتے ہیں۔جب دنیا اپنے مادی انعامات سے اپنی جھولیاں بھر کر لے جاتی ہے تو یہی سونا، چاندی، پیتل اور لوہا لینے والے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے عاشقوں کے متعلق بغض پیدا ہو جاتا ہے۔اور وہ اعلان کر دیتے ہیں کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کا عاشق ہونے کا دعوی کرے اسے قتل کیا جائے۔اور یکدم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عاشقوں کے امتحانات کا وقت آجاتا ہے کہ آیا وہ اپنے دعوئی عشق میں کامل ہیں یا نہیں۔ایسے وقت میں میں بآواز بلند کہتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کا عاشق ہوں۔اللہ تعالیٰ کے عاشقوں سے یہ بغض اور کینہ ہر زمانہ میں رہا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مصریوں نے اسی عشق کے دعوے کی وجہ سے قتل کرنا چاہا۔عیسی علیہ السلام کو شام کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا عاشق ہونے کی وجہ سے ہی صلیب پر مارنا چاہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں عربوں نے آپ کو اللہ تعالیٰ کا عاشق ہونے کی وجہ سے ہی قتل کرنا چاہا۔وہ اس لئے قتل کرنا چاہتے تھے کہ یہ عاشق اُن کی باتوں کی تردید کرتے تھے۔ان تمام زمانوں کے مادہ پرست لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کوئی نہیں اور اُس کی محبت کوئی چیز نہیں۔محض ایک جنون ہے۔اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ جو بھی اللہ تعالیٰ کا نام لے اُسے قتل کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ کا نام لینے کی وجہ سے دنیا قتل کرنا چاہتی ہو ایسے موقع پر اول کسے کہ لاف تعشق زند منم یہ وقت میرا ہو گا۔اور ایسے وقت میں میں وہ شخص ہوں گا جو بآواز بلند کہوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کا عاشق ہوں۔مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کے عاشقوں پر ایک زمانہ وہ آتا ہے جب انہیں قتل کیا جاتا ہے۔اور ایک زمانہ وہ آتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کے عاشقوں کی حکومت ہوتی ہے۔حضرت سید عبد القادر صاحب جیلائی اور حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی ایسے زمانہ میں آئے جبکہ ہزاروں ہزار لوگ اللہ تعالیٰ کے عاشقوں کو سروں پر اُٹھاتے تھے اور اُس وقت سچائی کی حکومت قائم تھی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسے زمانہ میں آئے جبکہ اللہ تعالیٰ کے