خطبات محمود (جلد 28) — Page 105
خطبات محمود 105 سال 1947ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کسی ہندو نے بڑی محنت مشقت کر کے اپنے لڑکے کو بی۔اے یا ایم۔اے کرایا اور اس ڈگری کے حاصل کرنے کے بعد وہ ڈپٹی ہو گیا۔آجکل تو ڈپٹی کی وہ عزت نہیں ہوتی لیکن پہلے وقتوں میں ڈپٹی ہونا بہت بڑی بات تھی۔اس ڈپٹی کے باپ کو خیال آیا کہ میرا لڑکا ڈپٹی ہو گیا ہے میں بھی اُس سے مل آؤں۔چنانچہ جس وقت وہ ہندو اپنے بیٹے کو ملنے کے لئے مجلس میں پہنچا تو اس وقت اُس کے پاس وکیل اور بیرسٹر وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔یہ بھی اپنی غلیظ دھوتی لے کر ایک طرف بیٹھ گیا۔باتیں ہوتی رہیں۔کسی شخص کو اس غلیظ آدمی کا بیٹھنا بُرا محسوس ہوا تو اس نے پوچھا کہ یہ کون گستاخ آدمی ہماری مجلس میں آ بیٹھا ہے؟ ڈپٹی صاحب اسکی یہ بات سن کر کچھ جھینپ سے گئے اور ذلت سے بچنے کے لئے کہنے لگا۔یہ ہمارے نوکر ہیں۔باپ اپنے بیٹے کی یہ بات سن کر غصے کے ساتھ جل گیا اور اپنی چادر سنبھالتے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا جناب! میں ان کا خادم نہیں میں ان کی ماں کا خادم ہوں۔( یعنی انکی ماں کے نوکر ہیں ) ساتھ والوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ ڈپٹی صاحب کے والد ہیں تو انہوں نے ان کو بہت لعن طعن کی اور کہا اگر آپ ہمیں بتاتے تو ہم ان کی تعظیم و تکریم کرتے اور ادب کے ساتھ ان کو بٹھاتے۔بہر حال اس قسم کے نظارے روزانہ دیکھنے میں آتے ہیں۔کہ لوگ رشتہ داروں کے ملنے سے جی چراتے ہیں تا کہ ان کی اعلیٰ پوزیشن میں کوئی کمی واقع نہ ہو جائے۔پس نام روشن تو کیا ہوگا۔نام کو بٹہ لگانے والے ہی اکثر ہوتے ہیں۔اور سوائے اُن لوگوں کے جو کہ دینی نقطہ نگاہ سے والدین کی عزت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ والدین کی عزت کرو، سوائے ایسے لوگوں کے دنیا داروں میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہ والدین کی پورے طور پر عزت کرتے ہیں۔اور زمینداروں اور تعلیمیافتہ طبقہ دونوں میں یہی حالات نظر آتے ہیں۔زمینداروں میں بھی اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جب باپ بوڑھا ہو جاتا ہے تو اولا د خدمت نہیں کرتی۔اور اگر باپ خدمت کا کوئی تقاضا کرے تو کہہ دیتے ہیں کہ محنت ہم کریں اور کھائے یہ۔حالانکہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جب تک باپ زندہ ہے وہ جائیداد اُس کی ہے اور وہ تو محنت کر کے نصف آمد کے حقدار بنتے ہیں۔لیکن ایسی مثالیں بہت کم بلکہ شاذ ہی ملیں گی کہ اولاد نے تمام جائیداد کی آمد کا نصف اپنے باپ کے سامنے پیش کر دیا ہو۔پس یہ جود نیوی قربانی ہے اس کا پھل