خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 88

خطبات محمود 88 88 سال 1947ء ہوتا ہے۔اچھے بیج سے تو دس گنا غلہ پیدا ہوتا ہے۔اور جو بیچ کسی قدر خراب ہوتا ہے اُس سے دُگنا تگنا غلہ پیدا ہو جاتا ہے۔اور جو بیج خراب ہوتا ہے اُس سے بعض دفعہ تو کچھ بھی پیدا نہیں ہوتا۔اور بعض دفعہ جتنا بیج ڈالا جاتا ہے اُتنا ہی اُس سے غلہ پیدا ہوتا ہے۔بہر حال ایسا بیج بیج کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ اول تو ہماری جماعت کی تعداد بہت کم ہے۔اور پھر ان میں سے بھی وہ لوگ بہت کم ہیں جو حقیقی اخلاص اور تقوی کی روح اپنے اندر رکھتے ہوں۔اور تمام دنیا کے بچانے کے لئے اُن کے دلوں میں ایک آگ سلگ رہی ہو۔اور وہ ہی یہ کوشش کرتے ہوں کہ دنیا کفر و ضلالت کی تاریکیوں سے نجات حاصل کرے۔اور اگر زیادہ نہیں تو کم سے کم اپنے شہر والوں کے لئے ہی اُن کے دلوں میں درد پیدا ہوتا ہو کہ یہ کیوں ہدایت سے محروم ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش ہی تی نہیں کرتے۔وہ بظاہر سمجھتے ہیں کہ ہم سب کچھ سمجھ رہے ہیں لیکن درحقیقت وہ کچھ بھی نہیں سمجھ رہے ہوتے۔میں نے پٹیالہ کی ایک عورت کا واقعہ کئی دفعہ بیان کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عورتوں کی علمی ترقی کے لئے ایک دفعہ عورتوں میں لیکچر دینے شروع کئے۔دس پندرہ دن کے بعد آپ کو خیال آیا کہ عورتوں سے پوچھنا بھی چاہیئے کہ وہ کچھ بجھتی بھی ہیں یا نہیں۔آپ کے لیکچر وفات مسیح ، اجرائے نبوت اور ضرورت الہام وغیرہ کے متعلق تھے۔دس پندرہ دن کے لیکچروں کے بعد آپ نے ایک دن ایک عورت سے جو کہ پٹیالہ کی رہنے والی تھیں اور سب سے آگے بیٹھا کرتی تھیں پوچھا۔بی بی! بتاؤ کہ اتنے دن میں اپنے لیکچروں میں کیا کہتا رہا ہوں؟ اُس نے جواب دیا کوئی اللہ اور رسول اور نماز اور روزہ کی باتیں ہی کرتے ہوں گے اور کیا کرتے ہوں گے۔اب جس شخص کی یہ حالت ہو وہ اعلیٰ بیج کس طرح قرار پاسکتا ہے وہ تو ایک کھوکھلا پیج ہو گا۔اور اگر کھوکھلا بیج تمیں سیر بھی ڈالا جائے گا تو اُس سے تھیں سیر غلہ پیدا ہونے کی بھی اُمید نہیں ہو سکتی۔پس خالی قربانی کسی کام کی نہیں جب تک کہ اُس کے ساتھ ایسی روح نہ ہو جو آئندہ زیادہ اچھے نتائج پیدا کرنے والی ہو۔اگر صرف جان دینا کافی ہو تو جان دینے کو تو غنڈ۔آگے ہوتے ہیں۔لیکن کیا اُن کے جان دینے سے قوم کی حالت سدھر جاتی ہے اور قومی عمارت