خطبات محمود (جلد 28) — Page 81
خطبات محمود 81 سال 1947ء احمدی ہو جائیں گی۔اور اس طرح ہماری ترقی دگنی ہو جائے گی۔اس کے بعد میں اسی سلسلہ میں دوستوں کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ مومن کی سب سے قیمتی متاع اُس کا ایمان ہوتا ہے اور جس انسان کے دل میں ایمان ہو وہ دوسرے انسانوں کے لئے پنے دل میں بغض اور کینہ نہیں رکھتا۔مومن وہی ہے کہ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ يَدِهِ وَ لِسَانِه -5 - یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مُسلِمُونَ کا لفظ کہا ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان کے ضرر سے مسلمان امن میں رہیں۔مگر اس جگہ مسلم سے مراد مسلم نہیں۔کیونکہ ایک دوسری جگہ آپ نے النَّاس کا لفظ بھی استعمال فرمایا ہے یعنی جس کے ہاتھ اور زبان کے ضرر سے لوگ امن میں رہیں 6۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مسلم سے مراد مسلم نہیں بلکہ امن دینے والے کے ہیں یعنی جو شخص یا قوم صلح سے رہتی ہے مسلمان اُسے کبھی نقصان نہیں پہنچا تا۔وہ ہمیشہ دفاع کے طور پر کام کرتا ہے۔غرض اسلام ہر مسلمان سے اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ تیرے ہاتھ اور زبان سے کسی شخص کو تکلیف نہیں پہنچنی چاہیئے۔خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ہو۔اسلام نے اس معاملہ میں تفریق کو پسند نہیں کیا اور اسی نقطہ نگاہ سے ہر مسلمان کو دوسرے بنی نوع انسان کو دیکھنا تھی چاہیئے۔لیکن ہمارے ملک کے حالات کچھ ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ یہاں کانگرس اور مسلم لیگ کے ے چلتے چلے جا رہے ہیں۔جہاں تک سیاسیات کا تعلق ہے ہم سیاسیات میں نہیں پڑتے لیکن اگر ان سیاسیات کے اثر کو دیکھا جائے تو ان اثرات سے ہم بھی محفوظ نہیں۔بہر حال ہم سیاسیات میں دخل نہیں دیتے۔ہاں مذہبی لحاظ سے ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندے آپس میں لڑیں گے۔ہمارے درد اور تکلیف کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ ہمارے محبوب کے بندے ہیں اور ان کی چی تکلیف ہم سے دیکھی نہیں جاسکتی۔جہاں تک انسانیت کا تعلق ہے ہندو، مسلمان، عیسائی، سکھ وغیرہ سب برابر ہیں۔اس لئے انسانیت کے لحاظ سے ہمارے دل میں درد پیدا ہوتا ہے۔کیونکہ ہندو، سکھ، عیسائی سبھی ہمارے محبوب کی مخلوق ہیں اور ہم چاہتے ہیں ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔لیکن اگر فسادات ہوئے تو تمام قومیں تکالیف اور مصائب کا شکار ہونگی۔لیکن باقی قوموں کو جو تفکرات ہیں وہ سیاسی قسم کے ہیں اور وہ سیاسی نقطہ نگاہ کے ماتحت اُن کو دیکھتی ہیں اور ہم اسے