خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 28

خطبات محمود 28 سال 1947ء ہوگا۔یہ استدلال اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کا زمانہ حضرت موسیٰ سے کم تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو ساٹھ اور ستر سال کے درمیان قربانیاں کرنی پڑیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کو بتیس سال قربانیاں کرنی پڑیں گویا نصف سے بھی کچھ کم عرصہ بنتا ہے۔اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قوم کی قربانیوں کا زمانہ چونکہ دوسو اسی سال کا تھا تے اس لحاظ سے ہمارے لئے ایک سو بیس سال کا زمانہ ہوتا ہے۔جس میں سے ستاون سال گزر چکے ہیں اور تریسٹھ سال باقی ہیں۔اور اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ یہ زمانہ یوں بھی سرعت کا ہے اور اس میں دنیوی کام بہت سُرعت کے ساتھ ہو رہے ہیں ہوسکتا ہے کہ ہمیں ایک سو میں سال سے بھی کچھ پہلے فتح و کامرانی حاصل ہو جائے۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس لحاظ سے کتنا عرصہ پہلے ہمیں غلبہ اور ترقی حاصل ہو گی۔ہو سکتا ہے کہ یہ کام ستر ، استی، یا نوے سال میں ہی ہو جائے اور اسی عرصہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے احمدیت کو دنیا میں قائم کر دے۔بہر حال قربانیوں کے تنے کم سال بھی نہیں ہو سکتے جتنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے۔صحابہ نے گل بتیس سال قربانیاں کیں۔اور بتیس سال میں اسلام کو وہ شان و شوکت حاصل ہو گئی تھی کہ دنیا کی تمام حکومتیں اُس کے خلاف آواز اٹھانے سے ڈرتی تھیں۔لیکن ہمارے اعلان کو اٹھاون سال گزر چکے ہیں اور ابھی ہمیں صحابہ کے مقابلہ میں کچھ بھی کامیابی نہیں ہوئی۔اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مختلف ممالک میں احمدیت کا بیج بو دیا ہے۔کچھ یہاں بویا ہے کچھ وہاں بویا ہے اور اس بیچ کا چھینٹا دنیا کے تمام ممالک میں دے دیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا۔کہ وہ اس پیج کو دنیا بھر میں ا گا نا چاہتا ہے اور اسے بڑھانا چاہتا ہے اور دنیا کی ضروریات کو اس سے پورا کرنا چاہتا ہے۔باقی یہ کہ یہ کام کتنے عرصہ میں ہو گا ؟ اس کا پورا علم تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے۔مگر اس کامیابی اور کامرانی کے آثار نظر آرہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ آخری لڑائی کب ہو گی۔لیکن ہم اپنی اس لڑائی کے متعلق جو کہ دلائل اور بینات کی لڑائی ہے یہ بات یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اس کا انجام ہمارے حق میں ہوگا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اب ہم نہایت ہی اہم دور میں داخل ہو رہے ہیں اور آئندہ ایک دو سال میں جماعت کو پہلے کی نسبت بہت زیادہ قربانیاں کرنی پڑیں