خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 289

خطبات محمود 289 سال 1947ء وہ مجھ سے ملنے کے لئے نہیں آئیں گے اگر آنا ہوتا تو آجاتے۔لیکن ابھی میں نے نصف راستہ ہی طے کیا تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ میری بیوی اور بیٹی جو میرے ساتھ آ رہی تھیں وہ کہیں غائب ہو گئی ہیں۔میں نے مُڑ کر دیکھا تو وہ دونوں بہت پیچھے ایک طرف کھڑی تھیں اور دو مرد میری طرف آرہے تھے۔میں نے سمجھ لیا کہ اُن کی عورتوں نے میری بیوی اور بیٹی سے کہا ہوگا کہ ذرا جی پیچھے ہٹ جائیں ہمارے مردمل لیں۔اور اس پر وہ پیچھے ہٹی ہیں۔جب وہ قریب پہنچے تو اُن میں سے ایک یعنی چودھری فقیر محمد صاحب نے بتایا کہ میں محمد اکرم خاں صاحب چارسدہ والوں کا بھائی ہوں۔پھر باتوں باتوں میں وہ مذاقاً کہنے لگے ہم نے پورے انصاف سے کام لیا ہے۔ہماری دو والدہ ہیں ایک ماں کا بیٹا محمد اکرم ہم نے آپ کو دے دیا ہے اور دوسری ماں کا بیٹا غلام سرور آپ کو دے دیا ہے۔باقی ایک میں اور ایک میرا دوسرا بھائی دونوں احمدی نہیں۔گویا روپیہ میں سے اٹھتی ہم نے آپ کو دے دی ہے اور اٹھتی ہم نے دوسرے مسلمانوں کو دے دی ہے۔میں نے بھی اُن سے مذاقاً کہا کہ ہم اٹھنی پر راضی نہیں ہوتے ہم تو پورا روپیہ لے کر چھوڑا کرتے ہیں۔وہ کہنے لگے تو پھر اپنی توجہ سے لے لیجئے۔میں نے کہا ہماری کوشش تو یہی ہے۔اللہ تعالیٰ جب چاہے گا بقیہ ٹھنی بھی مل جائے گی۔وہ اُس وقت معہ اہل وعیال انگلستان کی سیر کرنے جارہے تھے۔میں نے اُن سے کہا کہ کیا آپ کو احمدیت کی تبلیغ کبھی نہیں ہوئی ؟ وہ کہنے لگے کہ تبلیغ تو مجھے کئی دفعہ ہوئی ہے۔چنانچہ اب بھی محمد اکرم جو میرا بڑا بھائی ہے اُس نے میرے ٹرنک میں سلسلہ احمدیہ کی کتب ، احمدیت ، دعوۃ الا میر ، اور اسلامی اصول کی فلاسفی رکھ دی ہیں۔میں نے اُن سے کہا بھی ہے کہ میں ولایت سیر کرنے جا رہا ہوں کتابیں پڑھنے کے لئے نہیں جا رہا۔مگر انہوں نے زبردستی یہ کتابیں میرے ٹرنک میں رکھ دی ہیں اور کہا ہے کہ تمہارا کیا حرج ہے۔یہ کتابیں اپنے ٹرنک میں پڑی رہنے دو۔خیر اس گفتگو کے بعد وہ چلے گئے اور ملاقات ختم ہو گئی۔ابھی اس ملاقات پر ڈیڑھ مہینہ نہیں گزرا تھا کہ ایک دن ولایت سے مجھے ایک خط ملا جس کی ابتداء ان الفاظ سے ہوتی تھی کہ میں وہی شخص ہوں جو دتی کے قلعہ میں آپ سے ملا تھا۔اور جس نے آ سے کہا تھا کہ ہم چار بھائی ہیں۔دو غیر احمدی ہیں اور دو بھائی احمدی۔اور یہ کہ ہم نے پورا پورا احمدیت یعنی حقیقی اسلام