خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 19

خطبات محمود 19 سال 1947ء کے فضل سے ہماری جماعت اخلاص میں ترقی کر رہی ہے۔ورنہ اگر ہم روپیہ کا لالچ دے کر لوگوں کو اپنی جماعت میں شامل کرنا چاہیں تو ہزاروں لاکھوں آدمی ہمیں مل سکتے ہیں۔لیکن ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کے لئے بجائے مفید ہونے کے مضر ہوتے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہی وی ہوتی ہے جیسا کہ کسی اچھے تیراک کے گلے میں پتھر باندھ دیا جائے۔وہ بجائے اس کے کہ تیر نے میں مدد دے اُس کے ڈبونے کا موجب ہوگا۔پس جب ہم دوسروں سے یہ کام نہیں لے سکتے تو جماعت کو خود اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔اور تمام جماعتوں کو چاہئیے کہ وہ ہر سال ایک دو آدمی بھجوانے کی کوشش کریں۔اس وقت ہماری جماعت کئی ہزار گاؤں میں ہے۔اور ایک ہزار کے قریب تو انجمنیں ہیں۔اور بعض انجمنوں میں آٹھ دس گاؤں شامل ہوتے ہیں۔اور دیہاتی جماعتوں میں اگر مبلغین نہ پھیلائے جائیں تو اُن کی تربیت و اصلاح نہیں ہو سکتی۔اور چونکہ ہماری جماعت کے افراد بھی عام مسلمانوں میں سے آتے ہیں اس لئے بعض لوگوں کو نماز سکھانے کی کی ضرورت ہوتی ہے بعض کو نماز کا ترجمہ پڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔اور احمدیت کے مسائل جب تک بار بار اُن کے سامنے بیان نہ کئے جائیں وہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔بلکہ بعض لوگ تو با وجود سمجھانے کے بھی نہیں سمجھ سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ عورتوں میں درس دینا شروع کیا۔ایک خاتون جو کہ نابھہ سٹیٹ سے آئی ہوئی تھیں بڑے شوق کے ساتھ درس میں شریک ہوتیں اور آگے بیٹھتیں۔پندرہ بیس دن تک آپ ضرورت نبوت، مامورین کی صداقت کے دلائل، معیار صداقت اور وفات مسیح پر لیکچر دیتے رہے۔پندرہ بیس دن کے بعد آپ کو خیال آیا کہ عورتوں کا امتحان لینا چاہئیے کہ وہ کچھ بھتی بھی ہیں یا نہیں۔آپ نے اُسی خاتون سے جو نابھہ سٹیٹ سے آئی ہوئی تھیں اور سب سے آگے بیٹھا کرتیں پوچھا کہ تم بتاؤ میرے ان لیکچروں سے کیا سمجھی ہو؟ اُس عورت نے نہایت سادگی سے جواب دیا کہ کوئی نماز روزے دیاں گلاں ای کرد - ہوں گے۔ہور کی کہنا سی یعنی آپ کوئی نماز روزے کے متعلق ہی وعظ کرتے ہو نگے اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُس خاتون کا جواب سن کر آئندہ کے لئے اُس درس کو بند کر دیا کہ جب یہ سمجھ ہی نہیں سکتیں تو ان میں درس دینا تو تضیع اوقات ہے۔معلوم