خطبات محمود (جلد 28) — Page 261
خطبات محمود 261 سال 1947ء کے زمانہ میں عقل کو کون پوچھتا ہے۔اگر لوگ عقل کو پوچھتے تو آج خدا اور اُس کا رسول بیکسی کی حالت میں کیوں ہوتے۔اور اگر لوگ عقل کی بات کو پوچھتے تو آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت کی جگہ مشرکوں کی حکومت کیوں ہوتی۔تمہاری تائید میں جو دلائل ہیں اُن سے بہت زیادہ دلائل قرآن کریم اور خدا تعالیٰ کی تائید میں ہیں۔اسی طرح تمہارے تائیدی دلائل سے بہت زیادہ دلائل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تائید میں ہیں۔لیکن آج عقل کو کوئی نہیں پوچھتا۔آج لوگ لٹھ کو دیکھتے ہیں۔اور کٹھ تمہارے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔اس می لئے تم خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو۔خدا تعالیٰ اگر آج بھی چاہے تو وہ آسمان سے صرف ایک محسن کہہ کر ساری دنیا کے نقشوں کو بدل سکتا ہے۔اس لئے ہر شخص دعاؤں میں مشغول ہو جائے۔خصوصاً پہلے ایک دو دن ایسے ہیں جن میں دعاؤں کی زیادہ ضرورت ہے۔آج یا کل یا حد سے حدی پرسوں کا دن ایسا ہو گا جس میں یہ فیصلے ہو جائیں گے۔اور خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ ماضی میں تغیر نہیں کیا کرتا بلکہ مستقبل میں تغیر کرتا ہے۔ماضی کے متعلق تو وہ کہتا ہے کہ جد و جہد کرو اور پھر ہم سے مدد طلب کرو۔اور آئی ہوئی چیز کے بدلنے میں خدا تعالیٰ کا قانون جو وقت چاہتا ہے وہ ضرور لگتا ہے۔پس خدا جانے اس پر کتنا وقت لگے اور کتنی تکلیفوں میں سے ہمیں گزرنا پڑے۔لیکن ہمیں اپنی تکلیفوں کا بھی اُتنا احساس نہیں جتنا سلسلہ کی تکلیف کا احساس ہے۔اگر ہماری زندگیوں کا ہی سوال ہوتا تو ہم میں سے بہت سے اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی جانیں پیش کر دیتے اور کہتے کہ ہماری جانیں اس غرض کے لئے حاضر ہیں۔لیکن یہاں جانوں کا سوال نہیں بلکہ سلسلہ کی عزت کا سوال ہے۔میں نے اس دفعہ مصلحنا عورتوں کو اعتکاف بیٹھنے سے منع کر دیا ہے۔کیونکہ ہم ہنگامی کاموں میں بہت زیادہ مصروف ہونے کی وجہ سے اُن کی حفاظت کا صحیح طور پر انتظام نہیں ہے کر سکتے۔لیکن مردوں میں سے جو بڑی عمر کے ہیں انہیں چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو وہ ساری ساری رات جاگیں اور خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کریں۔اکیلے بھی اور مشترکہ طور پر بھی۔اسی نے طرح عورتوں کو چاہیئے کہ وہ گھروں میں بیٹھ کر دعائیں کریں اور اتنی تضرع اور گریہ وزاری سے دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ کا عرش ہل جائے۔بلکہ یونس نبی کی قوم کی طرح اگر وہ اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھوکا رکھ کر انہیں بھی دعاؤں میں شامل کر لیں تو یہ بھی کوئی بڑی قربانی نہیں ہوگی۔