خطبات محمود (جلد 28) — Page 254
خطبات محمود 254 سال 1947ء اور اجتماعوں کے مواقع پر کناروں پر والنٹیر ز کھڑے کرنا یہی تو کام ہے حفاظت قادیان کا۔اگر وہ چی قادیان میں رات کے وقت پہرہ نہیں دیتے ، اگر وہ جلسوں کے وقت کناروں پر کھڑے ہو کر نگرانی نہیں رکھتے تو انہوں نے کرنا کیا ہے، اور کس وقت انہوں نے کام آنا ہے۔کیا ہم روس کی چھ حکومت ہیں یا ہم جرمنی کی حکومت ہیں یا فرانس کی حکومت ہیں کہ کوئی غیر قوم ہم پر حملہ کر کے آئے گی اور ہمارے پچاس ساٹھ والنٹیئر ز اُس کی فوجوں کا مقابلہ کریں گے؟ دشمن تو اپنے جنون میں ہم پر ایسے الزام لگا تا ہے کہ ہم ایک حکومت قائم کر رہے ہیں۔مگر کیا ہم بھی ایسے بے وقوف ہیں کہ اس قسم کا خیال اپنے متعلق کر لیں؟ پس کہاں گئی تھی اُس وقت حفاظت قادیان؟ اگر اُس روز وہ مسجد کے چاروں طرف پہرہ پر متعین ہوتے تو بھاگنے والوں کو وہیں روک لیتے اور اُن سے کہتے کہ اے بیوقوفو! کہاں بھاگے جا رہے ہو اور اپنی بزدلی اور کمزوری کا ٹیکہ جماعت پر کیوں لگاتے ہو ؟ مگر وہ انہیں روکتے تب جب وہ اپنی ڈیوٹی پر کھڑے ہوتے۔وہ تو وہاں موجود ہی نہ تھے۔بلکہ آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے تھے۔یا مسجد کے کسی کونے میں شاید صفوں کے اندر بیٹھ کر حفاظت کر رہے تھے۔یا وہ اُس دن کے امیدوار تھے جب جرمنی یا فرانس کی فوجیں ہندوستان پر حملہ آور ہوں اور وہ مقابلہ کے لئے نکلیں۔حالانکہ جہاں باقاعدہ حکومتیں قائم ہوتی ہیں وہاں حفاظت کے اور معنی ہوتے ہیں۔اور جہاں با قاعدہ حکومتیں قائم نہ ہوں وہاں حفاظت کے اور معنی ہوتے ہیں۔پُرامن شہریوں کے لئے حفاظت کے صرف اتنے معنی ہوتے ہیں کہ جلسوں یا اجتماعوں کے وقت کسی قسم کی گڑبڑ نہ ہونے پائے۔یا رات کے وقت پہرہ کھڑا کر دیا جائے تا کہ چور چکار ڈاکو اور فوری طور پر حملہ کرنے والوں سے بچا جائے۔ورنہ جہاں با قاعدہ گورنمنٹیں موجود ہوں وہاں اصل حفاظت حکومت کیا کرتی ہے۔ہمارا ملک سرحدی نہیں بلکہ ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں با قاعدہ گورنمنٹ موجود ہے اور گورنمنٹ کے پاس پولیس اور فوج وغیرہ سب کچھ ہے۔پس ہمارے لئے حفاظت کا مفہوم اور ہے اور سرحدیوں کے لئے حفاظت کا مفہوم اور ہے۔ہماری حفاظت کا سب سے بڑا اور سب سے اہم پہلو صرف اتنا ہی ہے کہ اجتماعوں کے موقعوں پر کناروں پر والنٹیرز کھڑے رہیں تا کہ اگر کوئی گڑ بڑ ہو تو اُس کو روکیں اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کریں کہ شورش کیوں برپا ہوئی ہے۔اگر حفاظت قادیان نے