خطبات محمود (جلد 28) — Page 188
خطبات محمود 188 سال 1947ء ما تحت قادیان میں امن کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں غیر احمد یوں، ہندوؤں ، سکھوں اور احمد یوں کے نمائندے شامل ہیں۔اسی قسم کی امن کمیٹیاں بعض دوسرے شہروں میں بھی بنائی گئی ہیں۔امن کمیٹیاں اگر دیانتداری سے کام کریں تو اُن سے بہت کچھ فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔لیکن ان امن کمیٹیوں کی وجہ سے ضروری نہیں کہ پورے طور پر امن قائم رہے۔جب مسٹر جناح اور مسٹر گاندھی جی کی اپیل سے بھی کھچاؤ اور تناؤ دور نہیں ہوا اور عوام الناس ہندو اور مسلمان مسٹر گاندھی اور مسٹر جناح کی اپیل سے متاثر نہیں ہوئے تو ان پر ایک چودھری یا لالہ یا مولوی یا پادری کی بات کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک محدود حلقہ میں جہاں کسی بڑے لیڈر کا اثر نہیں ہوتا وہاں ان افراد کا ذاتی تعلقات اور رشتہ داری کی وجہ سے کچھ نہ کچھ اثر پڑ جاتا ہے۔لیکن یہ اثر بہت محدود ہوتا ہے۔اس کے علاوہ امن کمیٹیوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ہر قوم کے لوگ اپنے اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں اور لڑائی جھگڑے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔پس اس قسم کی کمیٹیوں سے کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوتا ہے بشرطیکہ ان کے لئے کچھ اصول مقرر کر لئے جائیں۔اگر کچھ اصول مقرر کر لئے جائیں تو امن کمیٹیوں سے لوگوں کو ایک حد تک فائدہ پہنچ سکتا ہے۔لیکن ایسے خطر ناک مواقع پر پورا کام صرف امن کمیٹیوں کے ذریعہ ہی نہیں ہو سکتا۔گو جتنا بھی قوموں کا صلح کی طرف قدم اٹھے گا اتنا ہی اچھا ہوگا۔یہاں قادیان میں جو امن کمیٹی بنی ہے اُس کے متعلق مجھے رپورٹ پہنچی ہے کہ کسی ہندو نے شکایت کی کہ مجھ سے ایک احمدی نے کہا کہ اگر دشمن حملہ کرے گا تو ہم ہندوؤں کو آگے کریں گے تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ انہوں نے ہم سے دیانتداری کے ساتھ صلح کی ہے یا جھوٹی صلح کی ہے۔ہندوؤں نے اس بات پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمارے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ لڑائی کے وقت ہم کو آگے رکھا جائیگا۔حالانکہ ہم تو لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔میں وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ بات کہی گئی ہے یا نہیں۔کیونکہ میرے پاس کہنے والے کے متعلق صحیح معلومات نہیں پہنچیں اور نہ ہی میں باقاعدہ تحقیقات کر سکا ہوں۔میں نے نظارت امور عامہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسکی تحقیقات کر کے میرے پاس رپورٹ کرے۔لیکن میں فرض کر لیتا ہوں کہ ایسا کسی نے کہا ہے اور اس بات کو فرض کرتے ہوئے میں اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ قادیان کے امن کی ذمہ داری در حقیقت مجھ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ