خطبات محمود (جلد 28) — Page 152
خطبات محمود 152 (15) سال 1947ء جلد جلد قدم اٹھاؤ تا کہ نصرت و فتح کے نظارے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو (فرمودہ 25 اپریل 1947ء ) تشهد ، تعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اس سال بجٹ کمیٹی کی طرف سے حفاظت مرکز کی جو تحریک ہوئی ہے اُس میں اب تک میرے نزدیک جماعت نے اُس کوشش اور جدوجہد سے کام نہیں لیا جس کوشش اور جد و جہد سے اسے کام لینا چاہیئے تھا۔کچھ تو اس میں دفاتر کی غلطی ہے۔مجھے سمجھ نہیں آتا کہ باوجود کافی عملہ ہونے کے دفاتر میں کام کو ساتھ ساتھ کیوں جاری نہیں رکھتے۔جہاں تک وقف جائیداد اور وقف آمد کا تعلق ہے اس وقت تک چار لاکھ کے وعدے معتین صورت میں پہنچ چکے ہیں۔ان کے علاوہ کچھ اور وعدے بھی آنے ہیں۔اگر اُن کو بھی شامل کر لیا جائے تو ساڑھے چار لاکھ کے وعدے بن جاتے ہیں۔لیکن نظارت بیت المال کی فہرست ایک لاکھ کے ارد گرد ہی چکر لگا رہی ہے ہے۔دفتر بیت المال والے شاید اس وہم میں مبتلا ہیں کہ لوگوں کو دو دفعہ وعدہ کرنا چاہیئے ایک دفعہ وہ دفتر وقف جائیداد و آمد کو اطلاع دیں کہ ہم نے اپنی ایک ماہ کی آمد وقف کر دی ہے یا ہماری جائیداد کا سواں حصہ اتنا بنتا ہے۔اور دوسری دفعہ وہ نظارت بیت المال کو اطلاع دیں کہ ہم اتنی آمد وقف کرتے ہیں یا ہم اپنی وقف جائداد کا اتنا روپیہ دینگے۔میرے نزدیک دفتر بیت المال کا یہ خیال غلط ہے۔جب ہم نے قانون بنا دیا ہے کہ ہر آدمی جو وقف کرنا چاہتا ہے ہماری تحریک