خطبات محمود (جلد 28) — Page 112
خطبات محمود 112 (12) سال 1947ء کامل ایمان اور کامل تو کل پیدا کرو تا کہ نئی زندگی پاؤ (فرمودہ 4 اپریل 1947 ء ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی بولنے کی توفیق عطا فرمائی ہے اور میں حسب موقع بغیر اس بات کے کہ میں نے پہلے سے مضمون کی تیاری کی ہو بسا اوقات گھنٹوں بول سکتا ہوں۔لیکن کبھی انسان پر ایسا وقت آجاتا ہے جب بولنا اُسے دو بھر معلوم ہوتا ہے اور بات کرنا اس کے لئے مشکل ہوتا ہے اور آج میں اپنے آپ کو اُسی حالت میں پاتا ہوں جیسے بیمار کے سامنے جب کھانا آتا نہ ہے تو وہ اس سے بے رغبتی کا اظہار کرتا ہے اور بسا اوقات اسے اچھے کھانے کو دیکھ کر متلی آنی شروع ہو جاتی ہے۔ایسا ہی میں آج تقریر کرنے اور بولنے سے بے رغبتی محسوس کرتا ہوں او صرف جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اس وقت سخت مصائب اور مشکلات میں سے گزر رہے ہیں اور ان کا ازالہ سوائے اللہ تعالیٰ کے فضل کے نہیں ہو سکتا۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنا ہماری قربانیوں اور ایثار پر منحصر ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ انسان کے لئے اپنا فضل نازل کرتا ہے اور اس کی مشکلات کو دور کرتا ہے اور انسان کے لئے ترقی کے راستے کھولتا ہے لیکن اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ انسان سے قربانی اور ایثار اور ایمان اور توکل کا مطالبہ کرتا ہے۔جب انسان سب کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کو تیار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے رہو تو اپنے خزانوں کے منہ کھول دیتا ہے۔لیکن جب تک انسان اپنے پاس کی چیز کو سینے سے لگائے رکھتا ہے اور اپنے بخل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اسے قربان کرنے کو تیار نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ بھی