خطبات محمود (جلد 28) — Page 87
خطبات محمود 87 سال 1947ء زراعت کو ترقی دی جائے تو اتنا غلہ پیدا ہو سکتا ہے جو موجودہ آبادی سے پچاس گنا زیادہ آبادی کے لئے بھی کافی ہو سکتا ہے۔گو بظاہر یہ بات نا ممکن نظر آتی ہے اور بعض لوگ اس بات پر اعتراض بھی کرتے رہے ہیں۔لیکن اب زمین کی طاقت کے متعلق جو تحقیقات ہوئی ہے اُس نے ثابت کر دیا ہے کہ زمین کے اندر ایسی قابلیت موجود ہے کہ اس سے زیادہ غلہ حاصل کیا جا سکے۔بہر حال اس ملک میں غلہ اور بیج کی جو نسبت ہے وہ اس شہر کی آبادی اور ہماری جماعت کے افراد کی نہیں۔سندھ میں عموماً تمہیں سیر فی ایکٹر بیج ڈالتے ہیں اور اوسط پیداوار قریباً آٹھ من فی ایکڑ ہوتی ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ کل پیداوار کا نواں حصہ بیج ہوتا ہے۔اگر ہماری جماعت کا ہر فرد بیج کی حیثیت اختیار کرلے اور اپنے اندر ایسا اخلاص اور تقویٰ پیدا کرے کہ اُس کی تمام خواہشات پر اللہ تعالیٰ کے لئے موت وارد ہو جائے۔اور جس طرح دانہ خاک میں فنا ہو کر ایک نئی پیدائش حاصل کرتا ہے وہی حالت ہمارے ہر فرد کی ہو جائے تو اس لحاظ سے بھی شہر کی گل آبادی کا نواں حصہ ہمارے آدمی ہونے چاہئیں۔اور آدمی بھی ایسے مخلص ہونے چاہئیں جو بیچ بننے کی اہلیت اپنے اندر رکھتے ہوں اور ان کے اندر روحانی قابلیت موجود ہو۔کیونکہ بہت سے بیج ایسے بھی ہوتے ہیں جو ضائع چلے جاتے ہیں۔اگر ہماری جماعت کا ہر فرد اس بات کا احساس رکھتا ہو کہ وہ دنیا کی روحانی کھیتی کے لئے بیج ہے اور وہ قربانی کر کے ہی دنیا کی حالت کو بدل سکتا ہے اور اگر ہر احمدی میں یہ احساس موجود ہو کہ میری زندگی دوسروں کے لئے ہے اپنے لئے نہیں تو پھر بے شک ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر احمدی بیج کا قائمقام ہے اور ہم آئندہ اچھے نتائج کی امید کر سکتے ہیں۔ورنہ صرف نام رکھ لینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔دنیا میں ہزاروں لاکھوں انسان بظاہر ایسے ہیں جو کہ انسان کہلاتے ہیں لیکن وہ انسانیت سے بالکل عاری و ہوتے ہیں۔تم مسلمانوں کو ہی دیکھ لو کہ مسلمان کہلانے والے تو کروڑوں ہیں لیکن اسلام پر عمل کرنے والے ان کے مقابلہ میں کتنے تھوڑے ہیں۔اسی طرح نام کے لحاظ سے تو گندے انڈے بھی انڈے ہی ہوتے ہیں لیکن اچھے اور گندے انڈے برابر نہیں ہو سکتے۔جو انڈے گندے ہوتے ہیں اُن سے بچے پیدا نہیں ہو سکتے اور جو انڈے اچھے ہوتے ہیں اُن سے بچے پیدا ہوتے ہیں۔پس جو فرق اچھے اور گندے انڈے میں ہے وہی فرق اچھے اور بُرے بیج میں