خطبات محمود (جلد 28) — Page 71
خطبات محمود 71 سال 1947ء کتاب مانگیں گے۔کیونکہ ہر شخص اتنی کتابیں خرید کر تو اپنے پاس رکھ نہیں سکتالا ئبریری ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر انسان آسانی سے کتاب لے کر پڑھ سکتا ہے۔دنیا میں ہزاروں لاکھوں کتب چھپ رہی ہیں۔ہر انسان ہر کتاب کو خرید کر نہیں پڑھ سکتا۔اس لئے لوگ لائبریریوں میں چلے جاتے ہیں اور وہاں سے مشہور کتابیں مانگ کر پڑھ لیتے ہیں۔پس ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ کچھ چی کتا بیں بڑے بڑے سیاسی لیڈروں اور جماعتوں کے مذہبی عالموں اور مستشرقین کو دی جائیں۔اور دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ کچھ کتابیں لائبریریوں میں رکھوائی جائیں۔دنیا میں اس وقت لاکھوں جی لائبریریاں ہیں اور ہمارے پاس گل ایک ہزار کتا ہیں ہیں۔جن میں سے تین سو ہم بڑے بڑے آدمیوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور سات سو کتابیں لائبریریوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ف امریکہ میں ہی دس ہزار لائبریریاں ہیں۔جب ہم امریکہ کہتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یو نائیٹڈ سٹیٹس ہوتی ہے۔ورنہ در اصل امریکہ نام ہے دو بہت بڑے علاقوں کا۔جن میں سے ہر ایک براعظم ہے۔اس کے دو حصے ہیں شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ۔جس طرح ایشیا ایک بہت بڑا براعظم ہے اور اس میں چین، جاپان، ہندوستان، ملایا، جاوا، سماٹرا، کوچین ( کیرالہ)، ایران، عراق، شام وغیرہ شامل ہیں۔اسی طرح امریکہ ایک بہت بڑا براعظم ہے اور یونائیٹڈ سٹیٹس اس کا ایک حصہ ہیں۔دونوں امریکی علاقوں کے پندرہ بیس ممالک ہیں۔جیسے کینیڈا، ارجنٹائن ، برازیل، اور چلی وغیرہ۔ان میں بہت سی لائبریریاں ہونگی۔پس اندازا ہیں تمہیں ہزار لائبریریاں تو صرف امریکہ میں ہی ہونگی۔اور ابھی برطانیہ، روس، فرانس، اٹلی ، ہالینڈ، جرمنی ، یونان، بیلجیئم ، ناروے، سوئٹزرلینڈ ، فن لینڈ، یوگوسلاویہ اور افریقہ کے کئی ممالک ، ایشیا، آسٹریلیا کے ممالک کی لائبریریاں ان کے علاوہ ہیں۔اور ان ملکوں کی لائبریریاں بھی یقیناً لاکھ سے زیادہ ہی بنیں گی۔ان میں سے اب سات سو جگہوں کا انتخاب کرنا بھی بڑا کام ہے۔مگر بہر حال مجبور امالی مجبوری کی وجہ سے سات سولا ئبریریوں پر ہی کفایت کرنا ہو گا۔اور اس غرض کے پورا کرنے کے لئے جماعت کو ہمت دکھانی چاہیئے اور ایک ہزار کتاب خرید کر سلسلے کے سپرد کر دینی چاہیئے تا کہ بڑے بڑے سیاستدانوں ، لیڈروں ، مذہبی لوگوں اور مستشرقین میں اِن کتابوں کو تقسیم کیا جاسکے۔اگر کتاب کی قیمت ہیں روپے ہوئی تو گل ہیں ہزار