خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 408

خطبات محمود 408 سال 1947ء مجلس میں بیسیوں سید ہوں گے ، بیبیوں پٹھان اور قریشی اور ایرانی النسل ہوں گے۔ایرانی النسل لوگوں کے باپ دادا ایران میں تھے۔پٹھانوں کے افغانستان میں تھے۔مغلوں کے باپ دادا سمرقند و بخارا میں تھے۔اب کیا مغلوں اور سیدوں کو پکڑ پکڑ کر سمرقند و بخارا اور عرب میں جا کر چھوڑ دیا جائے تو وہ اس کو اپنے لئے انعام سمجھیں گے یا سزا سمجھیں گے میں تو سمجھتا ہوں اگر کسی کو پاکستان سے زبردستی عراق ، شام اور فلسطین میں بھجوا دیا جائے اس لئے کہ اُس کے باپ دادا فلسطین کے رہنے والے تھے یا عراق اور شام کے رہنے والے تھے تو اُس کے بیوی بچے روتے ہوئے جائیں گے۔یہ نہیں سمجھیں گے کہ ہم پر یہ انعام کیا گیا ہے کہ ہمیں اپنے باپ دادا کے ملک میں بھجوا دیا گیا ہے۔وطن وہی ہوتا ہے جہاں انسان پکتا ہے۔پرانی باتیں بھول جاتی ہیں۔وطن اُس کو سمجھا جاتا ہے جہاں انسان رہ رہا ہو۔اگر ضلع گورداسپور اور جالندھر کے پٹھانوں کو ہی افغانستان بھجوا دیا جائے تو وہ کیا سمجھیں گے؟ افغانستان کے لوگ سمجھیں گے کہ ہندی آگئے ہیں ان کی خوب خبر لو۔اور یہاں کے رہنے والے پٹھانوں کو غیر سمجھیں گے۔یا ہم مغلوں کو اگر کوئی تھی ہندوستان سے نکال کر سمرقند و بخارا لے جائے تو ہمارا کیا حال ہو۔نہ ہم اُن کی بولی سمجھیں گے نہ وہ ہماری بولی سمجھیں گے اور ہم محض باپ دادا کے رہنے کی وجہ سے سمرقند و بخارا کو اپنا وطن نہیں ہے سمجھیں گے۔ہم یہی کہیں گے کہ ہمارا وطن ہندوستان ہے کیونکہ ہم نے ہندوستان میں ہی آنکھیں کھولیں اور ہندوستان میں ہی اپنی عمر گزاری۔اسی طرح موسی" کا وطن فلسطین نہیں تھا۔موسیٰ کا وطن مصر تھا۔موسیٰ وہیں بڑھا اور جوان ہوا مگر آخر فرعون کے مظالم سے تنگ آکر اُسے وہاں سے نکلنا پڑا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا موسی" کو جب خدا نے یہ کہا تھا کہ اپنی قوم کو لے کر مصر سے نکل تو اُس وقت موسی" نے یہ کہا تھا کہ آپ اپنی نبوت اپنے گھر میں رکھیں مجھے اگر کچھ دینا ہے تو ہمارے وطن میں دیں ، فلسطین نہ بھجوائیں؟ موسیٰ نے یہ نہیں کہا کہ جب خدا نے کہا کہ اے موسیٰ ! اپنا وطن تو چھوڑ تو موسی نے کہا حضور ! میں تیار ہوں۔اور جب خدا نے کہا اے موسیٰ ! تجھے اپنا وطن آئندہ فلسطین کو سمجھنا پڑے گا۔تو موسیٰ نے کہا خدایا ! میں تیار ہوں کہ میں فلسطین کو ہی اپنا وطن سمجھوں گا۔تو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں بتایا گیا ہے کہ تم خدا تعالیٰ سے سیدھے راستہ پر چلنے کی دعا کیا کرو اور کہا کرو کہ خدا یا! ہمیں وہی کامی