خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 386

خطبات محمود 386 سال 1947ء میں نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ اس درخت کو اتنا پھل آیا ہوا ہے کہ اگر سارا پھل لگ جائے تو۔۔۔اور یہ نہیں کہا تھا کہ ” درخت ٹوٹ جائے کہ وہ جلدی سے بول اٹھا حضور ! لگے گا سارا لگے گا۔میں نے کہا یہ تو بتاؤ ایک چکوترا بازار میں کتنے کو بکتا ہے۔اُس نے کہا چھ آنے ،سات آنے ، بلکہ آٹھ آنے تک بھی پک جاتا ہے۔میں نے کہا سستی سے سستی قیمت کیا ہوگی ؟ اُس ﷺ نے کہا دو آنے۔میں نے کہا بہت اچھا! دو آنے ایک چکوترا کی قیمت ہوئی اور یہ لاکھوں لاکھ ہے اگر کم سے کم بھی ہم اس کا اندازہ لگائیں تو یہ پچاس ساٹھ ہزار سے کم تو ہو نہیں سکتا۔اگر پچاس ہزار ہی ہم اس کا اندازہ رکھیں اور یہ خیال کریں کہ بازار میں اگر ایک چکوترا دو آنے میں پکتا ہے تو آڑھتی ہم سے ایک آنہ میں خریدے گا تو پچاس ہزار آنہ ہمیں مل سکتا ہے جو تین ہزار روپیہ سے اوپر ہو گیا گویا اڑھائی سو روپیہ مہینہ بنتا ہے۔میں نے کہا سوچو تو سہی اگر تمہارا یہ خیال درست ہو اور اگر اسی طرح پھل لگ جایا کرے تو لوگوں کو اتنی کوششوں کی کیا ضرورت ہے۔وہ جائیدادیں بناتے ہیں تا کہ ان کے بچوں کے کام آئیں۔وہ اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں تا کہ وہ آسانی سے روزگار پیدا کرسکیں۔اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہر لڑکے کے لئے دو چکوترے اور ہر لڑکی کے لئے ایک چکوتر الگا دینا چاہیئے۔لڑکے کو پانچ سوروپیہ مہینہ اور لڑکی کو اڑھائی سو روپیہ مہینہ مل جایا کرے گا۔حقیقت یہ ہے کہ ساری چیزیں آخر تک نہیں پہنچتیں۔ہر پھل بڑا نہیں ہوتا۔ہر پھل مٹھاس کی حد کو نہیں پہنچتا کچھ تو اتنے چھوٹے چھوٹے گر جاتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے مکھیوں کے پاخانے گر گئے ہیں اور کچھ ذرا اس سے بڑے ہو کر جن میں نہ گٹھلی بنی ہوتی ہے ، نہ گودا بنا ہوا ہوتا ہے محض ایک تلخ اور بدمزہ سا فضلہ ہوتا ہے۔کچھ آم کیریاں بن کر گر جاتے ہیں کچھ ذرا ی بڑے ہوتے ہیں لیکن ابھی ان میں کسی قسم کا مزہ پیدا نہیں ہوتا۔اسی طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جاتات۔ނ ہے یہاں تک کہ ایک دن وہ پھل مکمل ہو جاتا ہے مگرا بھی ترش ہوتا ہے۔پھر کچھ اس میں گر جاتا ہے اور پھر کچھ پھل وہ ہوتا ہے جو آخر میں کمال کو پہنچتا ہے اور شیرینی حاصل کر لیتا ہے۔یہی منی پھل ہوتا ہے جو اصلی قیمت پاتا ہے اور جس کی دنیا میں قدر ہوتی ہے۔مور کا جو حصہ گر جاتا ہے اگر تم اس کو دس بیس من بھی اکٹھا کر کے بازار میں لے جاؤ تو تمہیں ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا۔چھوٹے چھوٹے ماش کے دانہ کے برابر جو پھل ہوتے ہیں اگر ان کو لے لو، مثلاً آم ہی لے لو یا چنے کے برابر