خطبات محمود (جلد 28) — Page 377
خطبات محمود 377 سال 1947ء نے اپنی اصلاح نہیں کی تو خدا تعالیٰ تم کو رگڑنا کیوں بند کرے۔جو پتھر کسی انگوٹھی کے نگینہ کے لئے لا یا جاتا ہے وہ اُس وقت تک برابر رگڑا جاتا ہے جب تک وہ انگوٹھی کے مطابق شکل اختیار نہیں کر لیتا۔اور جب وہ اس کے مطابق شکل اختیار کر لیتا ہے تو صناع اسے رگڑنا فوراً بند کر دیتا ہے۔کیونکہ جس طرح کوئی نگینہ ساز یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ پتھر بڑا ہو اور نگینہ کے قابل نہ ہو۔اسی طرح کوئی نگینہ ساز یہ امر بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ پتھر گھستے گھستے بالکل چھوٹا ہو جائے۔وہ بے شک رگڑتا ہے مگر اُسی وقت تک جب تک وہ انگوٹھی کے قابل نہیں بنتا۔جب وہ اس کے مطابق ہیت اختیار کر لیتا ہے تو اس کا رگڑنا بھی بند کر دیا جاتا ہے۔بہر حال جب تک پتھر انگوٹھی کے مطابق نہیں بنتا نگینہ ساز اُسے ضرور رگڑتا ہے۔اور وہ رگڑ تا ضرورت کے مطابق ہے۔کیونکہ اسے یہ بھی ڈر ہوتا ہے کہ اگر میں نے اسے زیادہ رگڑا تو نگینہ ڈھیلا ہو جائے گا۔اور جس مقصد کے لئے اسے رگڑا جاتا ہے وہ پورا نہ ہو گا۔ماہر فن ہمیشہ اتنا ہی رگڑتا ہے جتنا اُسے فٹ کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلاء محض اس لئے آتے ہیں کہ لوگوں کے قلوب کی اصلاح ہو جائے۔اگر وہ ابتلاؤں میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہیئت اختیار کر لیں تو اللہ تعالیٰ انہیں زیادہ نہیں رگڑتا۔کیونکہ پھر اور رگڑنا بیوقوفی ہو جاتی ہے۔اور جس پتھر کو زیادہ گھسا جاتا ہے وہ انگوٹھی میں فٹ نہیں آتا بلکہ ڈھیلا ہو جاتا ہے۔پس ان ابتلاؤں سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے قلوب کی اصلاح کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذَالِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الرَّحِیمِ۔اگر تم ان ابتلاؤں سے فائدہ اٹھاؤ گے تو یا درکھو گو ہم نے تم پر ایک ابتلا نازل کیا ہے۔لیکن ہمارا منشاء یہ ہے کہ ہم اس کے بعد تم پر اپنی رحمت نازل کریں۔کیونکہ ہم نے تم کو مارنے کے لئے یہ ابتلاء نازل نہیں کیا، ہم نے تم کو تباہ کرنے کے لئے یہ ابتلا نازل نہیں کیا ، ہم نے تم کو دکھ دینے کے لئے یہ ابتلاء نازل نہیں کیا۔بلکہ ہم نے محض اس لئے یہ ابتلاء نازل کیا ہے کہ ہمارے قانونِ قدرت میں یہ بات موجود تھی کہ تم پر ابتلاء نازل کریں۔صرف اس کے ساتھ ہم نے اپنی رحمت کو ملا دیا ہے۔گویا قانونِ قدرت بھی ہم نے پورا کر دیا اور تمہارے ساتھ اپنی رحمت کا نجی پر سلوک بھی کر دیا۔اور اس طرح دونوں کو مخلوط کر دیا۔ایک طرف ہم نے اپنا قانون پورا کر دیا ہے اور دوسری طرف ہم نے تمہاری ترقی کی ایسی بنیادیں رکھ دی ہیں کہ اگر تم خواہ مخواہ ہماری مخالفت نہ