خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 375

خطبات محمود 375 سال 1947ء فساد کبھی مٹ نہیں سکتا کیا یہ کسی شریف انسان کا کام ہو سکتا ہے؟ اگر معمولی سے معمولی شرافت بھی کسی انسان کے اندر پائی جاتی ہو تو وہ ایسے افعال کے ارتکاب سے بچتا ہے جو فتنہ و فساد کو ہوا دینے والے ہوں۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم میں ایسے کمزور لوگ ابھی موجود تھی ہیں جو اس مصیبت کے زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کی خشیت سے کام نہیں لیتے۔حالانکہ چاہیئے تھا رات کو روتے روتے تمہاری آنکھیں سوج جاتیں ، سجدے کرتے کرتے تمہارے ماتھے کھس جاتے اور دعائیں کرتے کرتے تمہاری زبانیں خشک ہو جاتیں۔مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اس مصیبت میں بھی ہندو کا مال اٹھا لیتے ہو۔اور جب ایک ہندو کا مال اٹھاتے ہو تو ساتھ ہی کسی احمدی کا بھی اٹھا لیتے ہو۔اس خیال سے کہ احمدی کا مال برکت والا ہے۔شاید ہندو کے مال کے ساتھ مل کر وہ اسے پاک کر دے گا۔جب تمہاری یہ حالت ہے تو تم خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث کس طرح ہو سکتے ہو۔اور چوری کی عادت اختیار کرتے ہوئے یہ امید کس طرح کر سکتے ہو کہ تمہیں خدا تعالیٰ اپنا مقرب بنالے گا۔جب کوئی شخص چور بنتا ہے تو پھر وہ چوری سے رُک نہیں سکتا۔جو شخص چور ہے اس نے اگر آج ایک ہندو کا مال چُرایا ہے تو کل وہ اپنے باپ کا مال چرائے گا۔پرسوں وہ اپنی ماں کا مال چرائے گا۔اتر سوں وہ اپنے دوسرے رشتہ داروں کے ہاں ڈاکہ ڈالے گا۔کیونکہ اسے چوری کی عادت ہوگی اور یہ عادت اسے مجبور کرے گی کہ کسی نہ کسی کے ہاں ضرور چوری کرے۔مثل مشہور ہے کہ دو چار دن کسی چور کو چوری کا موقع نہ ملے تو وہ اپنی عادت پوری کرنے کے لئے ایک جیب سے چیزیں نکال کر دوسری جیب میں ڈالنی شروع کر دیتا ہے۔پس یہ ایک خطرناک عیب ہے جو ہماری جماعت کے افراد کو جلد سے جلد دور کرنا چاہیئے۔اسی طرح زمینداروں کے متعلق جنہیں مختلف جگہوں میں بسانے کے لئے بھجوایا جاتا ہے یہ شکایت موصول ہو رہی ہے کہ وہ پہلے ایک گاؤں میں جاتے اور وہاں سے غلہ، برتن اور کپڑے وغیرہ اکٹھے کرتے ہیں۔اور پھر راتوں رات غائب ہو کر کسی دوسرے گاؤں میں چلے جاتے ہیں اور وہاں سے برتن ، کپڑے اور غلہ وغیرہ اکٹھا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اور عذر یہ کرتے ہیں کہ فلاں گاؤں کی وی زمین اچھی نہیں اس لئے ہم وہاں نہیں رہے۔گویا لوگوں نے تو اُن پر رحم کھا کر انہیں غلہ ، کپڑے اور برتن وغیرہ دیئے۔اور انہوں نے یہ طریق اختیار کر لیا کہ پہلے ایک جگہ سے برتن اور کپڑ۔