خطبات محمود (جلد 28) — Page 374
خطبات محمود 374 سال 1947ء گھروں سے نکالے گئے ، جائیدادوں سے بے دخل کئے گئے مال و املاک چھین لئے گئے ، کسی کی جی ماں ، کسی کی بہن ، کسی کی لڑکی اور کسی کے اور رشتہ دار مارے گئے۔بعض لڑکیوں کو سکھ اغوا کر کے لے گئے اور وہ اب سکھوں کے گھروں میں بیٹھی بدکاری کروا رہی ہیں۔مگر اس عظیم الشان ابتلاء کے باوجود دلوں میں کوئی تغیر پیدا نہیں ہوا۔اور بعض لوگ یہاں آکر کسی کا سائیکل چرا لیتے ہیں اور کسی کی کوئی اور چیز اٹھا لیتے ہیں۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تمہیں ابھی کتنی اور لاٹھیاں کھانے کی ضرورت ہے۔اگر انسان کے اندر ذرا بھی تقویٰ اور ایمان ہو اور وہ پہلے ان گنا ہوں میں مبتلا رہ چکا ہو تب بھی ان حالات کو سن کر ہی اس کا دل ڈر جاتا ہے۔کجا یہ کہ وہ تمام حالات اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود اصلاح کا خیال نہ کرے اور گناہوں کی طرف قدم بڑھاتا رہے۔پھر بھی ایسے گندے لوگ بھی ہماری جماعت میں موجود ہیں جو یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ ہندو اور سکھ کا مال ہے اسے پچرانا یا اپنے استعمال میں لانا کوئی حرج کی بات نہیں۔انہیں ذرا بھی خیال نہیں آتا کہ جب ہم اپنے مال کے متعلق یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی شخص اُسے چرا کر لے جائے۔بلکہ جب کوئی شخص ہمارا مال پر الیتا یا لُوٹ لیتا ہے تو ہم اسے بُرا بھلا کہتے ہیں۔تو اگر ہم خود دوسرے کا مال لوٹنے لگیں گے تو یہ کون سی شرافت ہو گی۔اس وقت ہم جس کو ٹھی میں ٹھہرے ہوئے ہیں وہ ہندوؤں کی ہے اور ہمیں عارضی طور پر رہائش کے لئے ملی ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اس نیک بخت کے گھر کی حفاظت کریں جس کے مکان میں ہمیں سر چھپانے کو جگہ ملی ہے۔اور اس کی چیزوں کی حفاظت کریں۔نہ یہ کہ اسے ضائع کرنے لگ جائیں۔مگر بعض احمدیوں کے متعلق رپورٹ ملی ہے کہ وہ ایک ہندو کے مکان میں ٹھہرے تو اس کا مال اٹھا کر لے گئے۔محض اس لئے کہ وہ ایک ہندو کا مال ہے۔اگر ہندو کا مال اٹھا نا تمہارے لئے جائز ہے تو مسلمان کا مال اٹھانا ہندو کے لئے کیوں جائز نہیں۔آخر تمہارا مذہب اور ہے اور اس کا مذہب اور ہے۔اگر تم وه اختلاف مذہب کی وجہ سے دوسرے کا مال اٹھانا جائز سمجھتے ہو تو اسی اختلاف مذہب کی وجہ۔تمہارا مال کیوں نہیں اٹھا سکتا۔تمہیں اس کے مال اٹھانے پر بھی کوئی شکوہ نہیں کرنا چاہیئے۔مگر جب وہ تمہارا مال اٹھاتا ہے تو تم اعتراض کرتے ہو۔اور جب تم خود اس کا مال اٹھاتے ہو تو تمہیں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔تمہیں غور کرنا چاہیئے کہ دنیا میں وہ قانون جاری کرنا جس۔ނ