خطبات محمود (جلد 28) — Page 372
خطبات محمود 372 سال 1947ء کے ماتحت چلنے کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذَالِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ـ دوسری جگہ پھر سورج کے ایک خاص مقصد کے لئے چلنے کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر فرمایا گیا ہے۔ذَالِکَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الرَّحِیم۔تیسری جگہ بھی یہ ذکر ہے کہ آسمان پر ہم نے چاند ستارے خاص خاص کاموں کے لئے بنائے ہیں اور پھر فرمایا ہے ذَالِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ گویا آسمانی قانون کے ایک خاص نہج پر جاری ہونے اور ایک خاص طریق پر رونما ہونے اور غیر متغیر طور پر نافذ العمل ہونے کا ذکر کر کے اس آیت کو دُہرایا گیا ہے۔اس سے میں نے سمجھا کہ اس جگہ تقدیر سے وہ تقدیر مراد ہے جو اٹل قانون کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ایسے اٹل قانون جو دنیا کی پیدائش اور زمین و آسمان کے خلق سے تعلق رکھتے ہیں۔اب دنیا کی پیدائش کے اٹل قانونوں میں سے یا یوں کہو کہ انسانی پیدائش اور اس کی روحانی ترقی کے ساتھ تعلق رکھنے والے قانونوں میں سے ایک قانون یہ ہے جس کا قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْغُلِبُونَ 5- یقیناً خدا تعالیٰ کی جماعتیں ہی غالب آیا کرتی ہیں۔اسی طرح اُس کا ایک یہ بھی قانون ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبیوں کی مخالفت کرنے والے چاہے عارضی طور پر کامیاب ہی کیوں نہ ہوں آخر تباہ اور برباد ہو جاتے ہیں۔چونکہ میں اُس وقت جماعت کے فتنوں اور قادیان کے متعلق دعا کر رہا تھا میں نے یہ الہام اُسی کے متعلق سمجھا۔لیکن چونکہ تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے۔اچھی بھی اور بُری بھی اس لئے ضروری تھا کہ الہام میں ایسے الفاظ ہوتے جن سے پتہ چلتا کہ وہ تقدیر جس کا الہام الہی میں ذکر کیا گیا ہے اچھی ہوگی یا بری۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ذَالِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ کہ کر بتا دیا کہ یہ تقدیر جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں رحمت والی ہے۔خواہ بظاہر یہ تقدیر تمہیں کتنی ہی خلاف نظر آئے ، تمہارے دلوں کو خواہ کتنی ہی تکلیف پہنچے، تمہارے دل خواہ تھر تھرا جائیں ، متزلزل ہو جائیں اور گھبرا جائیں پھر بھی یاد رکھو جو کچھ ہوا ہے ایک ایسے قانون کے مطابق ہوا ہے جو کبھی ٹلا نہیں کرتا۔اس لئے میں تمہارے احساسات کی پروا نہیں کر سکتا تھا۔کیونکہ اگر میں تمہارے احساسات کی پروا کرتا تو میرا قانون ٹوٹ جاتا۔جو کچھ میں کر سکتا تھا وہ یہ تھا کہ میرا قانون بھی جاری ہو جائے اور تمہارے لئے بھی رحمت کا ذریعہ بن جائے۔چنانچہ میں نے ایسا کر دیا ذَالِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ۔یہ ایک