خطبات محمود (جلد 28) — Page 339
خطبات محمود 339 (36) سال 1947ء جب تک حکومت ہمیں جبرانہ نکالے ہم قادیان میں رہیں گے۔آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امانت ہمارے ہاتھ میں ہے اور اس امانت کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے (فرموده10 اکتوبر1947ء بمقام لاہور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج ایک عرصہ کے بعد قادیان سے جو خطوط موصول ہوئے ہیں اُن سے اور اُن آنے والوں سے جو پچھلے ایک دو دن میں یہاں آئے ہیں وہ حالات معلوم ہوئے ہیں جو گزشتہ چھ دنوں میں گورنمنٹ کے مقامی نمائندوں نے قادیان میں پیدا کر دیئے تھے اور جن کی مثال شاید ی پرانے زمانہ کی وحشی اقوام میں بھی نہیں ملتی۔ہمارے دوسو سے زیادہ احمدی مارے گئے ہیں اور ان کی لاشیں بھی ہمارے حوالے نہیں کی گئیں بلکہ گڑھے کھود کر اُن کو خود ہی دفن کر دیا گیا ہے۔جنرل تھمایا جو ایسٹ پنجاب گورنمنٹ میں جالندھر ڈویژن کے افسر ہیں وہ بعض احمدیوں کے ساتھ ایک سکیم کے ماتحت جب قادیان گئے تو انہوں نے کہا ہماری رپورٹیں تو یہ ہیں کہ تمیں کے قریب احمدی مارے گئے ہیں اور جب انہوں نے افسروں سے پوچھا کہ کتنے احمدی مارے گئے ہیں؟ تو انہوں نے بھی کہا ٹھیک ہے تمیں احمدی مارے گئے ہیں۔اُس وقت ہمارے لوکل نمائندوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ تمیں احمدی مارے گئے ہیں۔ہمیں ایک گڑھے کا علم ہے جس کیجیے