خطبات محمود (جلد 28) — Page 315
خطبات محمود 315 سال 1947ء سے بھی زیادہ ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ کے سپاہی صرف پندرہ میں ہوتے ہیں۔مگر چونکہ سپاہی لڑائی کے عادی ہوتے ہیں اس لئے پھر بھی ان میں سے اکثر اپنی جان بچا کر لے آتے ہیں۔آخر یہ تو کوئی قانون نہیں کہ جس کے ہاتھ میں بندوق ہو اُسے گولی نہ لگے۔اگر کسی کے ہاتھ میں توپ بھی ہو اور اسے گولی آلگے تو وہ مر جائے گا۔بات یہ ہے کہ سپاہی کو گولی سے بچنے کا ڈھنگ آتا ہے اس لئے وہ نڈر ہو کر جاتا اور بسا اوقات بیچ کر نکل آتا ہے۔مگر یہاں یہ حالت ہے کہ گولی چلتی ہے تو لوگ ادھر اُدھر جھانکتے اور بھاگنے کا راستہ تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سب کے سب مارے جاتے ہیں۔بیسیوں واقعات گورداسپور اور دوسرے اضلاع میں ایسے ہوئے ہیں کہ سکھوں نے گاؤں پر حملہ کیا تو اندر سے عورتیں اور بچے بے تحاشا بھاگ نکلے اور اس طرح توے فیصدی وہی لوگ مارے گئے جو ڈر کر بھاگے تھے۔اسکی وجہ یہی تھی کہ ان کو لڑائی کی عادت نہیں تھی اور جنگی روح ان میں مفقود ہو چکی تھی۔پس یہ چیز جہاں مصیبت ہے وہاں اس مصیبت نے ہمارے لئے ایک برکت کا راستہ بھی کھول دیا ہے اور اب ہم آسانی کے ساتھ انسانیت کے اس معیار پر آسکتے ہیں جو ساری دنیا میں جاری ہے۔جو معیار انگلستان کے انسان کو حاصل ہے، جو معیا ر ا مریکہ کے انسان کو حاصل ہے، جو معیار فرانس کے انسان کو حاصل ہے، جو معیار جرمنی کے انسان کو حاصل ہے، جو معیار روس کے انسان کو حاصل ہے۔وہ اب ہم کو بھی ملنے لگا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ اب ہمیشہ امن رہے گا۔بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ امن کے ساتھ خوف بھی طاری ہوگا اور خوف کے مقابلہ کی تیاری ہمارے اپنے ہاتھ میں ہو گی۔جیسے انگلستان پر خوف آتا ہے تو اُس کا علاج اُس کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔پہلے ہندوستان پر خوف کا وقت آتا تو انگلستان کہتا کہ اس خوف کا مقابلہ ہم کریں گے مگر اب ہمیں خود سوچنا پڑے گا کہ ہم کس طرح دشمن کے حملہ سے بچ سکتے ہیں۔یہ دماغی کیفیت جلدی پیدا نہیں ہو سکتی۔مگر کچھ دنوں کے بعد یہ خوف ہم میں وہ انسانی ذہنیت ضرور پیدا کر دے گا جو آزاد انسان کی ذہنیت ہوا کرتی ہے۔پہلے ہماری محض زنانہ حیثیت تھی جیسے پردہ دار عورت اپنے سارے کام خاوند کے سپرد کر دیتی ہے ہم نے بھی اپنے سارے کام انگریزوں کے سپر د کر دیئے تھے۔اور جس طرح وہ عورت ہمارے جیسے ہاتھ ، ہمارے جیسے پاؤں ، ہمارے جیسا دماغ ،