خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 296

خطبات محمود 296 سال 1947ء دیکھو ! 1941ء میں کون کہہ سکتا تھا کہ یہ خطرناک واقعات رونما ہونے والے ہیں۔اُس وقت ہم نے سمجھا کہ اس میں جاپان کی جنگ کے متعلق خبر دی گئی ہے۔حالانکہ جاپان کا جالندھر سے کیا تعلق۔جاپان کا اس سے کیا تعلق تھا کہ میں قادیان سے باہر نکلا ہوں۔ہم نے اُس وقت اس خواب کی یوں تعبیر کر لی کہ اگر انگریزوں نے جنگ جاری رکھی تو سنگا پور پر دوبارہ قابض ہو جا ئینگے۔حالانکہ گجا احمدیوں کا دکھایا جانا اور گجا انگریز۔گجا جالندھر اور گجا جاپان۔مگر اُس وقت جو کچھ سمجھ میں آیا اسکے معنی کر لئے گئے۔در حقیقت اس میں موجودہ تباہی اور بربادی کا مکمل نقشہ کھینچا گیا تھا۔چنانچہ دشمن کی طرف سے عملاً حملہ ہوا اور ہر قسم کے ہتھیار استعمال کئے گئے۔صرف قادیان کے ارد گرد اس وقت تک سوا دوسو کے قریب احمدی شہید ہو چکے ہیں۔اور تازہ اطلاع یہ آئی ہے کہ سٹھیالی کا گاؤں جو بڑی جرات اور بہادری سے دشمن کا مقابلہ کر رہا تھا اور جس نے تین دفعہ سکھوں کے حملہ کو بُری طرح پسپا کیا وہاں اب ملٹری نے آکر نمبرداروں کو بلایا اور انہیں اتنا مارا کہ بھس بنا کر رکھ دیا۔مگر اس کے باوجود وہ دلیری سے اب تک قائم ہیں۔اور باوجود اس کے کہ ملٹری نے اُن کی ہڈیاں توڑ دیں پھر بھی اُنہوں نے پروانہیں کی اور وہ سب کے سب اپنے گاؤں میں ڈٹے ہوئے ہیں۔بعد کی خبر ہے کہ اس گاؤں کو ملٹری اور پولیس نے زبر دستی خالی کروالیا ہے۔بہر حال رویا بتاتی ہے کہ حلقہ مسجد مبارک لڑائی کرتا اوی رہے گا اور آخر خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ فاتح اور کامران ہوگا۔میں نے بتایا ہے کہ مسجد مبارک کے حلقہ سے ہو سکتا ہے کہ سارا قادیان مراد ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسجد مبارک اور اُس کے ماحول کو برکت دی ہے۔لیکن یوں میں ہدایت دے چکا ہوں کہ اگر دشمن کا دباؤ خدانخواستہ بڑھ جائے تو پھر حلقہ مسجد مبارک کے ارد گرد اپنی حفاظتی لائن بنالی جائے کیونکہ یہی وہ مقام ہے جس میں ہمارے شعائر ہیں۔اگر تمہاری موت آئے تو اس جگہ آئے اور شعائر اللہ کی حفاظت کرتے ہوئے آئے۔مجھے یہ خواب پڑھ کر اس لحاظ سے خوشی ہوئی کہ حلقہ مسجد مبارک جس کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ آخر تک لڑتا رہے گا اسی حلقہ میں میرے گیارہ بیٹے قسمیں کھا کر بیٹھے ہیں کہ وہ مر جائیں گے مگر اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹا ئیں گے۔پھر اسی حلقہ میں میرے دو بھائی ہیں اور اسی حلقہ میں میرے بھتیجے ہیں گویا ہی ہمارا سارا خاندان اسی حلقہ میں ہے۔پس اگر حلقہ مسجد مبارک سے یہی مراد ہے تو خدا نے خبر دی ہے کہ اس حلقہ کو آخر تک خدمتِ اسلام کی شاندار توفیق ملے گی۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مسجد مبارک کے حلقہ میں