خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 277

خطبات محمود 277 (31) سال 1947ء یہ امتحان کا وقت ہے ایسے موقع پر ہر شخص کو مر دمیدان ثابت ہونا چاہیئے فرموده 5 ستمبر 1947 ء بمقام لاہور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج جبکہ لاکھوں انسان موت کے گھاٹ اُتارا جا رہا ہے یا موت کے مقام سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے لمبی باتیں اور لمبی کہانیاں کچھ فائدہ نہیں دے سکتیں۔ایسے خطر ناک وقت میں سوچنے اور کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اور یہ وقت قربانی اور ایثار کا ہوتا ہے نہ کہ باتیں کرنے کا۔آجکل ہماری جماعت جن مشکلات میں سے گزر رہی ہے شاید باقی جماعتیں ان مشکلات میں سے نہیں گزرر ہیں۔بلکہ شاید کیا یقیناً دوسری جماعتوں کو اس قسم کی مشکلات در پیش نہیں ہیں جو ہماری جماعت کو درپیش ہیں۔کیونکہ ہمارا مرکز ہاں وہ مرکز جو ہماری امیدوں کی آماجگاہ ہے اور جس کا نام سن کر ہمارے دل دھڑ کنے لگتے ہیں وہ ایسے علاقے میں ہے اور ایسے حالات سے دو چار ہو رہا ہے کہ دُنیوی اسباب کو مد نظر رکھتے ہوئے اُس کے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔پس سب سے زیادہ مشکلات ہمارے لئے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ جو مشکلات ہمیں پیش آئی ہیں وہ انسانی تدبیر سے بالا تھیں۔میرے نزدیک یہ مشکلات ایسی ہیں کہ اگر صحیح تدابیر اختیار کی جاتیں تو یہ حالات پیدا ہی نہ ہوتے۔اور عام مسلمانوں کو بھی اور احمدیوں کو بھی یہ مشکلات پیش نہ آتیں۔لیکن اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے اور نکتہ چینی کا کوئی فائدہ نہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے