خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 255

خطبات محمود 255 سال 1947ء فی الواقع اپنے فرض کو پورا کیا ہوتا تو یہ شرمناک واقعہ رونما نہ ہوتا۔حفاظت قادیان کا محکمہ مہینوں سے قائم ہے۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس موقع پر حفاظت قادیان کلی طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے اور اس نے سو میں سے صفر بھی کام نہیں کیا۔ان لوگوں کا فرض تھا کہ وہ جمعہ یا جلسہ وغیرہ کے مواقع پر اپنے آدمی چاروں طرف کناروں پر کھڑے کر دیتے تا کہ وہ کوئی گڑ بڑ واقع نہ ہونے دیتے۔ایسی شورش کی حالت میں اگر بچے نیچے آ جاتے یا عورتیں گھل کر ماری جاتیں تو پھر کیا ہوتا۔حفاظت قادیان کا یہی تو کام تھا کہ وہ لوگوں کو ایسی بھا گڑ 2ے سے تے۔مگر انہوں نے کیا کیا ؟ انہوں نے صفر کے برابر بھی کام نہیں کیا۔یہ واقعہ ایسا شرمناک ہے کہ مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس واقعہ نے ہمارے نظام کی اندرونی کمزوری کو ننگا کر کے رکھ دیا ہے۔اور شاید خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ واقعہ بھی برکت کا موجب ہو۔کیونکہ اس واقعہ نے ہمیں وقت سے پہلے ہوشیار کر دیا ہے۔مگر یہ چیز ہمیں اس غم سے بچا نہیں سکتی کہ ہماری جماعت کے ایک حصہ نے سخت کمزوری دکھائی ہے۔اور ایسے وقت میں دکھائی ہے جب ان کی کمزوری اور ذلت ساری جماعت کے شریک حال تھی۔اگر وہ لوگ اپنے گھروں میں ایسا کرتے یا اپنے محلہ میں ایسا کرتے تو اور بات تھی۔مگر ایسی جگہ پر جہاں چار ہزار آدمی جمع تھا اُن کا اس قسم کی شرمناک حرکت کرنا ہر احمدی کو بدنام کر رہا ہے۔اور انہوں نے اس موقع پر بزدلی کا چھ مظاہرہ کر کے سب کو اپنے ساتھ شامل کر لیا اور اپنی روسیاہی کے ساتھ انہوں نے نہ بھاگنے والوں اور مضبوط ایمان والوں کے ماتھوں پر بھی کلنک کا ٹیکہ لگانے کی کوشش کی۔اب جب تک بھاگنے والوں کا پتہ نہ لگ جائے کون تمہاری شکل دیکھ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ تم ان بھاگنے والوں میں نہیں تھے۔پھر یہ ایسا احمقانہ فعل ہے کہ اسے دیکھ کر حیرت آتی ہے۔فرض کرو وہ ہم ہی ہوتا اور تم ہم لگنے سے مر جاتے تو کیا ہوتا۔کیا تمہارے باپ دادے نہیں مرے؟ یا تم نے نہیں مرنا ؟ تم میں سے کون ہے جو کھڑا ہو کر کہہ سکے کہ میں نے نہیں مرنا۔اگر بم کی وجہ سے ہی خدا نے تمہاری موت مقدر کی ہوئی ہے تو دنیا کی کونسی طاقت تمہیں اس موت سے بچا سکتی ہے۔قرآن کریم منافق ہے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر وہ قلعوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہونگے تو وہاں بھی اُن کی کو موت آجائیگی۔3 اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اچانک حادثہ سے انسان ضرور گھبرا جاتا ہے اور یہ