خطبات محمود (جلد 28) — Page 245
خطبات محمود 245 سال 1947ء بھی انتظار نہیں کرنا چاہیئے بلکہ جلد از جلد یہ رقوم ادا کر دینی چاہئیں۔میں نے بتایا ہے کہ اس تحریک کے چندہ کی ادائیگی کی موجودہ رفتار اتنی سست ہے کہ چھ ماہ تو کیا چھ سال میں بھی یہ رقم جمع نہیں ہوسکتی۔اس لئے جماعت کو فرض شناسی اور اخلاص سے کام لیتے ہوئے اور اس تحریک کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے جلد از جلد اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور کسی قسم کی قربانی سے نہیں ڈرنا چاہیئے۔جن خطرات میں سے اس وقت ہمارا ملک گزر رہا ہے اور جن خطرات میں سے اس وقت ہماری جماعت گزر رہی ہے ان میں سے جو خطرات ظاہر ہیں وہ تو ظاہر ہی ہیں اور سب دوستوں کو معلوم ہیں اور بہت سی باتیں ایسی بھی ہیں جو آپ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔اور میں اُن باتوں کو اس لئے ظاہر نہیں کرتا کہ کہیں کمزور لوگ دل نہ چھوڑ بیٹھیں۔ورنہ ان دنوں ہماری جماعت ایسے خطرات میں سے گزر رہی ہے کہ اُن کے تصور سے مضبوط سے مضبوط انسان کا دل بھی بیٹھ جاتا ہے اور اُس کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں۔صرف جماعت کے کمزور لوگوں کا خیال ہے رکھتے ہوئے اور بعض دوسرے مصالح کی وجہ سے میں وہ باتیں پردہ اخفاء میں رکھتا ہوں ورنہ ان دنوں میں بعض اوقات اس طرح محسوس کرتا ہوں جیسے کسی عظیم الشان محل کی دیوار میں نکل نے جائیں اور اُس کی چھت کے سہارے کے لئے ایک سرکنڈا کھڑا کر دیا جائے۔تاج محل یا ایسی ہی ہوتی یا کسی بڑی عمارت کی چھت کے نیچے اگر سر کنڈا کھڑا کر دیا جائے تو جو حال اُس سرکنڈے کا ہو سکتا ہے وہی حال بسا اوقات اِن دنوں میں اپنا محسوس کرتا ہوں۔وہ بوجھ جو اس وقت مجھ پر پڑ رہا ہے اور وہ خطرات جو جماعت کے مستقبل کے متعلق مجھے نظر آرہے ہیں وہ ایسے ہیں کہ اُن کا مانی اظہار بھی مشکل ہے اور اُن کا اٹھانا بھی کسی انسان کی طاقت میں نہیں محض اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اُن خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے میں اُس بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہوں۔ور نہ کوئی انسان ایسا نہیں ہو سکتا جس کے کندھے اتنے مضبوط ہوں کہ وہ اس بوجھ کو سہار سکیں اور ان تفکرات کا مقابلہ کر سکیں۔ہماری جماعت کے حصہ میں تو صرف چندے ہی ہیں۔تفکرات میں اُس کا کوئی حصہ نہیں۔بلکہ تفکرات اُن تک پہنچتے بھی نہیں۔جیسے خطرہ کے وقت ماں اپنے بچہ کو گود می میں سلا لیتی ہے اور سارا بوجھ خود اٹھا لیتی ہے یہی حالت اس وقت میری ہے۔میں بھی ان وی خطرات سے جو مجھے اس وقت نظر آرہے ہیں جماعت کو آگاہ نہیں کرتا اور سارا بوجھ اپنے دل پر