خطبات محمود (جلد 28) — Page 236
خطبات محمود 236 سال 1947ء سوراخ تھے اس لئے صحابہ نے چیونٹیوں کے سوراخوں میں آگ ڈال دی۔آپ نے دیکھا تو ہے فرمایا آگ کا عذاب خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔بندوں کا حق نہیں کہ وہ کسی جاندار کو آگ کا عذاب دیں۔3 اب دیکھو وہ چیونٹیاں تھیں مگر چیونٹیوں کا جلانا بھی آپ نے پسند نہ فرمایا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رحم کی کیفیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک جگہ آپ کے ساتھ جا رہے تھے کہ ہم نے ایک فاختہ دیکھی جس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔وہ بچے ہم نے پکڑ لئے اور فاختہ اُڑ گئی۔تھوڑی دیر کے بعد جب آپ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا تو وہ فاختہ شور مچاتی ہوئی ہمارے سروں پر اڑ رہی تھی۔آپ نے فرمایا کس نے اس فاختہ کے بچے اس سے چھین کر اسے دُکھ دیا ہے؟ یہ سن کر ہم نے فوراً ان بچوں کو چھوڑ دیا۔4 پس رحم ایمان کے ساتھ لازم و ملزوم ہے۔ہم جو خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔کیا قرآن کریم کی ان آیتوں کی وجہ سے کرتے ہیں جن میں عذاب اور دوزخ کا ذکر آتا ہے؟؟ ہماری محبت ان آیات کی وجہ سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ کی رحمانیت اور رحیمیت کی صفات بیان ہوئی ہیں؟ یقیناً ہم دوزخ اور عذاب کے بیان والی آیات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کی نہیں کرتے۔بلکہ ہم خدا تعالیٰ کی رحمن ، رحیم، ستار ، غفار اور رزاق وغیرہ صفات کی وجہ سے اُس کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔اسی طرح اگر دنیا میں ہم نے محبت پیدا کرنی ہے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم پہلے اپنے اندر محبت پیدا کریں۔یوں تو ہم ہمیشہ ہی کہا کرتے ہیں کہ جماعت کے لوگ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں۔مگر اس کا اثر اُس وقت زیادہ ہوتا ہے جبکہ خدا تعالیٰ کے قادر اور تی وقیوم ہونے کا ثبوت اُس کے تازہ نشانات سے ملتا ہے اور لوگوں کے ایمان اُن نشانات کو دیکھ کر تازہ ہوتے ہیں اور قلوب کے اندر نرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ہماری جماعت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس وقت ایک ایسا نشان ظاہر کیا ہے جس کی نظیر سارے ہندوستان میں نہیں ملتی۔بلکہ ہندوستان تو کیا در حقیقت ساری دنیا میں اسکی نظیر نہیں مل سکتی۔اللہ تعالیٰ نے وقوعہ سے چھ یا سات دن پیشتر جبکہ کوئی بھی آثار ان واقعات کے پائے نہ جاتے تھے اس کی خبر دی تھی۔فسادات 3 مارچ کے بعد شروع ہوئے تھے۔کیونکہ 3 مارچ کو سر خضر حیات خان صاحب نے