خطبات محمود (جلد 28) — Page 230
خطبات محمود 230 سال 1947ء کریں تا کہ یہ خزانہ ہمارے ہاتھوں سے جاتا نہ رہے۔اور اللہ تعالیٰ صحابہ کے وجود کو ایک لمبے عرصہ تک قائم رکھے تا کہ جماعت ایسے مقام پر پہنچ جائے کہ وہ روحانی طور پر اپنے پاؤں پر آپ کھڑی ہو سکے۔اور جماعت کے اندر ایسے نئے وجود پیدا ہو جائیں جو اپنی قربانی ، اپنے اخلاص، اور اپنے تقویٰ کے لحاظ سے صحابہ کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہوں۔جہاں تک مالی اور جانی چ قربانیوں کا تعلق ہے اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے اندر ایسے نوجوان کثرت کے ساتھ پیدا ہو چکے ہیں جو جانی اور مالی قربانیاں کرنے والے ہیں اور اس کے لئے اُن کے اندر بہت زیادہ جوش بھی پایا جاتا ہے۔مگر روحانی رنگ ظاہری قربانیوں سے جُدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنا ، اُس کے کلام پر غور کرنا ، اُسکی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنا اور دوسروں کے اندر بھی اُن صفات کو پیدا کرنا اس کا نام روحانیت ہے۔محض قربانیاں تو غیر اقوام اور غیر مذاہب کے لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔جو چیز دنیا کی دوسری قوموں کے اندر نہیں پائی جاتی اور صرف الہی جماعتوں میں ہی پائی جاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور صفات الہیہ کو اپنے اندر جذب کرنا اور لوگوں کو ان چیزوں کی طرف توجہ دلانا ہے۔اور یہی اصل روحانیت ہے۔اس کے بعد دوسری چیزوں کا نمبر آتا ہے۔اس کے بعد میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس دفعہ جس قسم کی شدت کی گرمی پڑی ہے اس نے عام صحتوں کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے مگر جو کمزور اور بیمار لوگ ہیں اُن کی صحتوں کو تو بہت ہی نقصان پہنچایا ہے۔میں خود کئی دنوں سے قریباً صاحب فراش ہوں۔کچھ تو در دنفرس کا دورہ شروع ہے مگر زیادہ تر گرمی کی شدت کی وجہ سے میرے جگر کو بہت نقصان پہنچا چی ہے جس کی وجہ سے قریباً چوبیس گھنٹے میری حالت نیم جان کی سی رہتی ہے۔اور جگر کی خرابی کی وجہ سے متلی کے دورے بعض دفعہ ایسے شدید ہوتے ہیں جیسے ہیضہ کی صورت ہوتی ہے۔اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ سارا معدہ ہی اُلٹ جائے گا۔اس لئے سب دوستوں کو دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ تعالی گرمی کی اس نا قابل برداشت شدت کو دور کر دے۔گرمی تو پہلے بھی تھی مگر اس وقت اللہ تعالیٰ نے ہے اس کی طرف توجہ پیدا کر دی ہے۔چنانچہ آج رات سے مجھے بھی اس طرف زیادہ توجہ ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ وہ بارانِ رحمت بھیج کر اپنے بندوں کو گرمی کی شدت سے