خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 14

خطبات محمود 14 سال 1947ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جہاں ایسے مخلص لوگ تھے کہ وہ اپنی آمد میں سے نصف سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر قربانی کر دیتے تھے وہاں آج بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ نصف آمد یا نصف آمد سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پیسہ فی روپیہ چندہ تھا۔اس کے بعد دو پیسے فی روپیہ ہوا۔پھر تین پیسے فی روپیہ ہوا۔اور اب چار پیسے فی روپیہ ہے۔یہی شکل وصیت کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بہت تھوڑے لوگ موصی تھے۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں کی تعداد میں موصی ہیں۔اور چندہ تو آنہ کی بجائے پانچ پیسے فی روپیہ سمجھنا چاہیئے۔کیونکہ چندہ جلسہ سالانہ بھی ایک مستقل چندہ ہے۔اس کو ملا کر پانچ پیسے فی روپیہ بن جاتا تھے ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے تحریک جدید جاری ہو گئی ہے اور جماعت یہ تمام قسم کے بوجھ ہے اٹھاتی جا رہی ہے اور اس کا قدم دن بدن ترقی کی طرف پڑ رہا ہے۔اگر انسان وفاداری کرسکتا ہے اور وفاداری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کیوں وفاداری نہ کریگا۔بلکہ وہ تو تمام دنیا سے بڑھ کر وفا دار ہے اور کوئی چیز اسکی طرح وفادار نہیں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے قربانیاں کرینگے وہ قربانیاں اُن کے لئے اس دنیا میں بھی بڑی بڑی برکتوں کا موجب ہو گی اور اگلے جہان کا اندازہ نہ تم لگا سکتے ہو اور نہ میں لگا سکتا ہوں۔پھر وقف زندگی کا مطالبہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں با قاعدہ طور پر کوئی ایک مبلغ بھی نہ تھا۔اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہندوستان میں اور ہندوستان سے باہر اڑھائی سو مبلغ کام کر رہے ہیں۔اور بہت سے جانے کے لئے تیار ہیں۔اور کچھ تیاری کر رہے ہیں۔اور کافی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں اور وہ اشارہ کے منتظر ہیں۔وقف زندگی کرنے کے جذبہ کا احساس دوسری قو میں نہیں کرسکتیں کیونکہ اُن میں یہ روح نہیں۔لیکن ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی مثال دوسری قوموں میں نہیں مل سکتی۔بعض آدمی ایسے ہیں جو مستقل ملازمتیں چھوڑ کر آئے ہیں۔وہ ہزار بارہ سو کے گریڈ میں کام کر رہے تھے اور یہاں آکر انہوں نے سوڈیڑھ سو روپیہ لے کر اُسی پر قناعت کی۔اور بعض وکلاء ہیں جو کہ ہزار بارہ سو روپیہ ماہوار کما سکتے تھے اور یہاں آ کر ساٹھ ستر روب روپے