خطبات محمود (جلد 28) — Page 207
خطبات محمود 207 (21) سال 1947ء حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کی وفات سے جماعت کو ایک بہت بڑا نقصان ہوا ہے (فرمودہ 6 جون 1947ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ” جہاں یہ مسلمہ امر ہے کہ جماعت کا فائدہ ہی اصل اور حقیقی چیز ہوتا ہے اور افراد، جماعت کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔وہاں یہ بھی ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ جماعتیں افراد سے بنا کرتی ہیں اور جس قسم کے افراد کسی جماعت میں پائے جاتے ہوں اُس کے مطابق ہی جماعت کی عزت اور مرتبہ ترقی کرتا ہے۔اس لئے جہاں جماعت کا شیرازہ بکھر نے سے افراد کی قیمت کم ہو جاتی ہے اور اُن کا فائدہ اور اُن کی نفع رسانی محدود ہو جاتی ہے وہاں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ افراد کی قیمت کے مطابق جماعت کی قیمت لگائی جاتی ہے۔اس وجہ سے جہاں جماعت کی شیرازہ بندی اور اُس کا اتفاق اور اتحاد قائم رہنا ضروری ہوتا ہے وہاں افراد کا معیار اخلاق اور معیار تقویٰ بلند رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ بلند مرتبہ انسانوں کے بغیر جماعت قائم نہیں رہ سکتی۔یہی وجہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو جس طرح پہلے زمانہ میں ہوتا رہا ہے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے چوٹی کا دماغ ہے رکھنے والے آدمی دیئے۔جہاں یہ سچ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور اسلام نے ی حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر ، اور حضرت عبد الرحمن بن عوف