خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 200

خطبات محمود 200 سال 1947ء 5 مارچ کو امرتسر میں فساد شروع ہوئے۔اس لحاظ سے دو مہینے سے بھی زائد عرصہ بنتا ہے۔اس صورت میں در حقیقت گورنمنٹ کا فرض تھا کہ ایسے لوگوں کے لئے روٹی کا انتظام کرتی قطع نظر اس کے کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔تمام وہ لوگ جو کہ روٹی کے محتاج ہیں ان کو روٹی دی جاتی۔خواہ گورنمنٹ ان کے لئے غلہ مہیا کرتی یا اور کوئی صورت پیدا کرتی۔بہر حال یہ گورنمنٹ کا فرض تھا کہ ان کے کھانے کا انتظام کیا جاتا۔پرانے زمانے میں حاکم کو مائی باپ کہا جاتا تھا۔اس کا کوئی مفہوم لے لو۔لیکن اس سے کی یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ حاکم وقت ماں باپ کی جگہ ہوتا ہے۔کیا دنیا میں کوئی ماں باپ بھی ایسے ہیں جو اپنے بچوں کا ایک دن کا بھی فاقہ دیکھ سکیں ؟ کجا یہ کہ وہ متواتر دوماہ سے فاقے پر فاقہ کاٹتے آرہے ہوں۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک ایسے فاقہ زدہ لوگوں کے لئے روٹی کا انتظام نہیں ہو گا فساد نہیں رکے گا۔لوگ اپنے بال بچوں کو کس طرح بھوکا دیکھ سکتے ہیں؟ چنانچہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض لوگ جب بھوک سے تنگ آجاتے ہیں تو دوسروں کے گھروں پر حملہ کر دیتے ہیں اور اُن سے کہتے ہیں تمہارے پاس یہ چیزیں ہیں۔مثلاً تمہارے پاس کرسیاں ہیں، میزیں ہیں، گھڑیاں ہیں، تعیش کے سامان ہیں لیکن ہمارے بچے بھوکے مر رہے ہیں ہمیں کچھ پیسے دو نہیں تو ہم تمہارے گھر کو آگ لگا دیں گے۔یہ فعل بے شک خلاف شریعت اور خلاف قانون ہے۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس فعل کا محرک کونسا امر ہے؟ اگر گورنمنٹ ان کے لئے کھانے کا انتظام کر دے تو وہ خود ہی ایسی حرکات سے باز آجائیں گے۔گورنمنٹ کا یہ رویہ یقیناً قابل اعتراض ہے۔جب گورنمنٹ جیل میں قاتلوں اور مجرموں کو کھانا دیتی ہے جن کا کہ جرم ثابت ہوتا ہے اور ان لوگوں کا تو جرم بھی ثابت نہیں تو ان کے کھانے کا کیوں انتظام نہیں کرتی۔پس گورنمنٹ کو چاہیئے کہ وہ ان مزدوروں کے لئے کھانے کا انتظام کرے۔اگر گورنمنٹ ایسا کرے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ فسادات بہت حد تک رُک جائیں۔تم ہی اس نظارہ کا تصور تو کرو کہ پولیس کے سپاہی روٹیوں کے ٹوکرے اٹھائے ہوئے ہوں اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر صاحب اور دوسرے افسر لوگوں میں روٹیاں تقسیم کر وا ر ہے ہوں۔اس احسان کے بعد ان کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سے اکثر لوگوں کو شرم آئے گی۔کیونکہ ایسے محسنوں کی بات کورڈ کرتے ہوئے ہر انسان پانی پانی ہو جاتا ہے۔پس یہ گورنمنٹ کا فرض ہے کہ مزدور پیشہ لوگوں کے کھانے کا انتظام کرے۔اور اگر وہ کسی مصلحت کی بناء پر انتظام نہیں کرنا چاہتی تو اُس کا