خطبات محمود (جلد 28) — Page 9
خطبات محمود 9 سال 1947ء۔دفعہ ہر ایک گاؤں میں احمدیت کا بیج بو دیا جائے۔جب ہر ایک گاؤں میں دو دو چار چار احمدی ہو جائیں گے تو پھر تبلیغ کی ایک روچل پڑے گی۔جہاں تک رو پیدا کرنے کا سوال ہے وہ آہستہ آہستہ ہی پیدا ہوتی ہے۔اور جب رو چل پڑے تو پھر وہ لوگ اپنے لئے تبلیغ کا خود رستہ بنا لیتے ہیں۔اور لوگ اُس رو کو قبول کرنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ زیادہ طاقتور ہوتی جاتی ہے۔یہاں تک کہ وہ لوگ زیادہ ہو جاتے ہیں۔اور پھر وہ روڑک جاتی ہے۔کیونکہ پھر کان ان باتوں کو سننے کے عادی ہو جاتے ہیں۔پھر کوئی اور طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔جیسے برسات کے بعد سردی۔سردی کے بعد بہار۔بہار کے بعد گرمی۔جس طرح موسم بدلتے رہتے ہیں اسی طرح تبلیغ کے ذرائع بھی مختلف اوقات میں بدلتے رہتے ہیں حالات کے مطابق کام کرنا پڑتا ہے۔بعض جگہ مبلغ رکھنا زیادہ مفید ہوتا ہے۔بعض جگہ مدارس کھولنا زیادہ مفید ہوتا ہے اور بعض جگہ لٹریچر تقسیم کرنا زیادہ امی مفید ہوتا ہے اور بعض جگہ لیکچر دینا زیادہ مفید ہوتا ہے۔مختلف طبائع مختلف ذرائع سے اثر قبول ہے کرتی ہیں۔ایک ہی طریقہ پر کام کرنے سے انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔پس میں امید کرتا ہوں کہ اگلے جمعہ سے پہلے پہلے تمام محلوں کے پریذیڈنٹ میرے پاس فہرستیں بھجوا دیں گے۔آبادی میں مرد عورتیں ، لڑکے، لڑکیاں سب شامل ہوں گی۔سو سے مراد میری صرف سو مرد نہیں بلکہ سب مرد عورتیں لڑکے لڑکیاں ملا کر سو کی تعداد مراد ہے۔گویا سو میں سے اگر چالیس عورتیں سمجھ لی جائیں اور چھپیس لڑ کے سمجھ لئے جائیں کیونکہ ہمارے یہاں لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے۔بہت سے الب علم باہر سے یہاں آئے ہوئے ہیں۔تو باقی پینتیس مردرہ گئے۔گویا اس لحاظ سے میں نے مردوں میں سے پانچ چھ فیصدی کے درمیان آدمی طلب کئے ہیں۔جب ان لوگوں کی فہرستیں ہمارے پاس پہنچ جائیں گی تو ہم ان سے ایسے طور پر کام لیں گے کہ ہماری تبلیغ زیادہ بہتر نتائج پیدا کر سکے۔جب اللہ تعالیٰ ہمیں اس سکیم میں یہاں کا میاب کر دے گا تو پھر بیرونی علاقوں میں بھی یہ طریق رائج کرنے کی کوشش کی جائیگی۔“ 66 1 پرستان : پریوں کے رہنے کی جگہ، پریوں کا ملک الفضل 24 جنوری 1947 ء )