خطبات محمود (جلد 28) — Page 164
خطبات محمود 164 سال 1947ء بجائے کوئی دوسرا آدمی کام پر لگا دیا جائے۔یہ چندہ بھی دیتا رہے گا اور دین کی خدمت بھی کرتا رہے گا۔بظاہر یہ ایک خوشنما اور اچھی بات معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے شدید دنیا داری کی رُوح کام کر رہی ہوتی ہے۔اگر ایک شخص اچھی کمائی کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ایک حد تک اپنی قابلیت اغیار سے منوالی ہے اور اس کی قابلیت کے پیش نظر غیر بھی اس کو اچھا عہدہ دینے کے لئے تیار ہیں مگر سلسلہ کی ضروریات کو اگر دیکھا جائے تو اُسے بھی ہر قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے اور ہر قسم کی لیاقت رکھنے والے آدمیوں کی ضرورت ہے۔آخر ہر انسان ہر کام نہیں کر سکتا۔کوئی شخص صرف چپڑاسی کا کام کر سکتا ہے، کوئی اچھا کلرک بن سکتا ہے، کوئی اچھا نگران بن سکتا ہے، کوئی اچھا افسر بن سکتا ہے۔ان تمام کاموں کے لئے مختلف لیاقت رکھنے والے آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اور جس لیاقت کے آدمی کی ہمیں ضرورت پیش آئے اگر اُس لیاقت کا آدمی ہمیں مل جائے تو ہمارا کام چل سکتا ہے۔گو اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہو گا کہ جب کوئی اچھی لیاقت کا آدمی کسی کام پر لگایا جائے گا تو سلسلہ کو اُس آمد سے محروم ہونا پڑے گا جو اُس کی طرف سے آیا کرتی تھی۔اور یا پھر دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کسی نالائق آدمی کو اعلیٰ کام پر لگا کر نقصان کا دروازہ کھول دیا جائے۔لیکن یہ غیر معمولی طریق ہے اور کوئی معقول آدمی اس کی طریق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔بہر حال اصل صورت یہی ہے کہ کسی تجربہ کار اور قابل آدمی کے سپر د کام کیا جائے اور یہی صورت معقول اور قابل عمل ہے۔مگر اس طریق پر عمل کرنے سے لازمی طور پر ایسے شخص کی معقول آمد سے سلسلہ کومحروم ہونا پڑے گا کیونکہ عام طور پر لائق آدمی ہی زیادہ کماتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض نا قابل اور نالائق آدمی بھی کسی اچھی جگہ پر پہنچ جاتے ہیں لیکن یہ امر مستثنیات میں سے ہوتا ہے۔ورنہ عام قاعدہ یہی ہے کہ لائق ہی آدمی ہی اچھی جگہ پر پہنچتے ہیں اور نالائق کا ترقی کرنا ایک اتفاقی امر ہوتا ہے۔اور اسکی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے اتفاقا کسی کو گرا پڑا پونڈ مل جائے۔جس شخص کو اتفاقا گرا پڑا پونڈ مل جائے وہ اگر تمام کام کاج چھوڑ کر پونڈ ملنے کی امید پر بیٹھ جائے کہ فلاں دن جو مجھے پونڈ ملا تھا اب بھی ملی جائیگا تو ایسے شخص کو کون عقلمند کہے گا۔پس گو نا قابل اور نالائق بھی بعض دفعہ ترقی کر جاتے ہیں لیکن عام قاعدہ یہی ہے کہ قابل آدمی اپنے فن میں مہارت حاصل کر لینے کی وجہ سے زیادہ آمد