خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 86

خطبات محمود 86 80 9 سال 1947ء ہر احمدی کے دل میں یہ احساس ہونا چاہیئے کہ وہ دنیا کی روحانی کھیتی کے لئے بیج کی حیثیت رکھتا ہے (فرمودہ 7 مارچ 1947 ء بمقام کراچی ) تشهد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج جمعہ میں جتنے دوست آئے ہیں اُن کو دیکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ دورے کی نسبت ( جس کو پانچ سال گزر چکے ہیں) اب یہاں کی جماعت کی ترقی ایک نظر آنے والی ترقی ہے لیکن جو کام ہمارے سامنے ہے اُس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہماری جماعت کی حیثیت ابھی اتنی بھی نہیں جتنی کھیت کے مقابلہ میں بیج کی ہوتی ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دانے سے سات سو دانے پیدا ہو سکتے ہیں 1۔بلکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس سے بھی زیادہ ہے پیداوار ہوسکتی ہے۔اور گو ہمارے ملک میں ایک دانے سے سات سو دانہ پیدا نہیں ہوتا لیکن قرآن کریم نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ زراعت میں اتنی ترقی کی جاسکتی ہے کہ ایک دانہ سے سات سو دانہ پیدا ہو۔گویا ایک ایکڑ سے چار پانچ سو من تک پیداوار ہو سکتی ہے۔ہمارے ہاں اوسط آمد سات آٹھ من فی ایکڑ ہے۔اگر قرآن پاک کے اصول کے مطابق پیدا وار ہو تو ہمارے ملک میں کروڑوں من گندم ضرورت سے زیادہ پیدا ہوسکتی ہے۔در حقیقت قرآن کریم نے یہ صراحت فرمائی ہے کہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ ایک دانے سے سات سودا نہ پیدا ہو۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی زیادہ ترقی کی امید دلائی ہے۔اس اصل کے ماتحت اگر