خطبات محمود (جلد 28) — Page 73
خطبات محمود الله 73 سال 1947ء میں تقسیم کی جائیں گی۔لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اُس وقت تک زندہ رہے گا اور کون پسند کر لگا کہ وہ پہلی صف میں شامل ہونے کی طاقت رکھتے ہوئے دوسری صف میں شامل ہو۔پس میں جماعت میں تحریک کرتا ہوں کہ ایک ہزار کتاب خرید کر سلسلہ کے سپرد کر دی جائے اور بقیہ ایک ہزار اپنے لئے خرید لی جائے۔اور اس معاملہ میں سستی سے کام نہ لیا جائے۔ایسا نہ ہو کہ کتابیں پک جائیں اور بعد میں پھر پچھتانا پڑے۔گل ایک ہزار کتاب ہے اور خریدار یقینا ایک ہزار سے زائد ہو جائیں گے۔اس لئے جو لوگ پیچھے رہ جائیں گے اُن کو سوچ لینا چاہیئے کہ اُن کو دوسرے ایڈیشن تک انتظار کرنا پڑے گا۔اتنے لمبے انتظار کے بعد یہ کتاب شائع ہو رہی ہے ایسا نہ ہو کہ ان کے حصہ میں پھر بھی انتظار ہی آئے۔یہ کتاب ایسے وقت میں شائع ہو رہی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے مشن باہر کام کر رہے ہیں۔اگر اس وقت سے پہلے شائع ہوتی ہے تو شاید اس کے اتنے شاندار نتائج نہ نکلتے۔اس سے پیشتر لوگ بعض دفعہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ اتنی دیر کیوں کی جارہی ہے۔لیکن بعض کاموں کا دیر سے ہونا ہمیں نا پسند یدہ نظر آتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت اُس کے پیچھے کام کر رہی ہوتی ہے۔میں دیکھتا تھا کہ جماعت اس تفسیر کے لئے بے چین نظر آتی تھی کہ اتنی دیر ہوگئی ہے ابھی تک تفسیر شائع نہیں ہوئی۔لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ چاہتی تھی کہ بہت سے ممالک میں ہمارے مشن قائم ہو جائیں اور ہمارے مبلغ اس کتاب کے سمجھنے میں مدد دیں۔اگر اُس وقت یہ کتاب بیرونی ممالک میں پہنچا دی جاتی جبکہ ہمارے مشن قائم نہ ہوئے تھے تو اگر کسی کو کوئی بات سمجھ نہ آتی تو وہ کس سے پوچھتا؟ لیکن اب تو مبلغین ان کے پاس موجود ہیں۔جس حصے کی سمجھ نہ آئے گی ہمارا مبلغ سمجھا دے گا۔اور جو حصہ تبلیغ کا مبلغ کے لئے مشکل ہو گا اُس میں تفسیر اُس کی مدد کر دے گی۔پس اتنی مدت کے انتظار کے بعد جو چیز دوستوں کو مل رہی ہے اُسے جلدی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اور جو دوست یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے انگریزی پڑھے ہوئے دوستوں کو انگریزی میں تبلیغ کریں اُن کو ضرور یہ تفسیر خرید لینی چاہیئے۔اتنی بڑی کتاب تحفہ تو دی نہیں جاسکتی۔یہی ہو سکتا ہے کہ کبھی ایک دوست کو اور کبھی دوسرے دوست کو ہفتہ دو ہفتے کے لئے مطالعہ کے لئے دے دی اور اس نے مطالعہ کرنے کے بعد واپس کر دی۔یہ ذریعہ تبلیغ کا نہایت اعلیٰ ہے۔اگر کسی شخص نے اس موقع پرستی اور غفلت