خطبات محمود (جلد 28) — Page 72
خطبات محمود 72 سال 1947ء کی رقم بنتی ہے۔اور اگر پچیس روپے ہوئی تو پچیس ہزار روپے کی رقم بنتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہیں پچیس ہزار کی رقم جماعت کے لئے کوئی بڑا بوجھ نہیں۔بلکہ جس قسم کا یہ کام ہے اس کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے یہ رقم بہت ہی ادنی ہے۔کہتے ہیں جو بولے وہی گنڈ ا کھولے“۔اس لئے میں اپنی طرف سے ایک سو جلد خرید کر سلسلہ کو تقسیم کرنے کے لئے دینے کا وعدہ کرتا ہوں۔ایک سوجلدوں کی جو بھی قیمت ہوگی وہ میں دونگا۔باقی نو حصے جماعت کو پورے کرنے چاہئیں۔لجنہ اماءاللہ قادیان نے دو سو جلدوں کا وعدہ کیا ہے۔اس لئے اب صرف سات سو جلد میں باقی جماعت کے ذمہ رہ جاتی ہیں۔ممکن ہے بعض مخلصوں کو اللہ تعالیٰ توفیق بخشے اور یہ حصے بھی لگ جائیں اور باقیوں کو افسوس کرنا پڑے۔اس لئے اس نیک کام میں حصہ لینے کے لئے دوستوں کو جلدی کرنی چاہیئے۔ارادہ ہے کہ ایک سو جلد جو کہ بادشاہوں اور حکومتوں کے پریذیڈنٹوں وغیرہ میں تقسیم کی جائے گی اُس کی جلدیں انگلستان سے خاص قسم کی بنوائی جائیں جو کہ اُن لوگوں کے اعلیٰ مذاق کے مطابق ہوں۔یا پھر ہزار کی ہزار ہی انگلستان بھجوا دی جائیں اور ان میں ایک سو کا پہیوں کی خاص قسم کی جلد میں بنوا لی جائیں اور باقی نو سو کی عام جلدیں وہاں کے مذاق کے مطابق بنوا لی جائیں۔اور جلد میں بنتے ہی وہ لیڈروں اور مستشرقین کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں کی تا کہ وہ جلد سے جلد اس کتاب کے مضامین سے واقف ہو جا ئیں۔اگر ان میں سے بعض اس پر ریویو کر دیں اور وہ اخباروں میں شائع ہو تو یکدم لاکھوں آدمیوں میں اس کتاب کے متعلق تحریک کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔کیونکہ ان ملکوں میں بعض علمی اخبار بھی پندرہ بیس لاکھ تک چھپتے ہیں۔اس طرح ایک دن میں پندرہ بیس لاکھ انسان تک اس کتاب کی خبر پہنچ سکتی ہے۔لوگ مستشرقین کی رائے اخباروں میں پڑھیں گے اور اصل کتاب کو پڑھنے کے لئے لائبریریوں کی طرف آئیں گے۔دوسری جلد کے متعلق بھی ہم کوشش کریں گے کہ وہ جلد سے جلد چھپ جائے۔جنگ کی وجہ سے اب اخراجات بہت زیادہ ہیں۔میرا خیال ہے کہ اگر تین چار سال کے بعد یہ کتاب انگلستان سے چھپوائی جائے تو نصف قیمت پر چھپ سکے گی۔جب قیمتیں سنتی ہو جائیں گی۔اُس وقت پھر دوبارہ اس کتاب کو چھپوایا جائے گا۔اور اس کی مزید آٹھ دس کا پیاں افراد میں اور لائبریریوں