خطبات محمود (جلد 28) — Page 70
خطبات محمود 70 سال 1947ء ہیں۔اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کا علاج کرے اُس کو مذہب کی ضرورت کی نہیں۔پروفیسر کا یہ کام ہے کہ وہ نئی نئی تھیوریاں بنائے اُسے مذہب کی ضرورت نہیں۔بیرسٹر کا یہ کام ہے کہ وہ قانون کے متعلق غور و فکر کرے اس کو مذہب کی ضرورت نہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لئے مذہب کی راہ نمائی ضروری قرار دی ہے اور ہر انسان کے لئے دین سے تعلق قائم کرنا ضروری قرار دیا ہے۔لیکن یورپ و امریکہ والے اسے بھی دنیوی کاموں کی طرح کا ایک کام سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ جس طرح ہر شخص ڈاکٹر یا وکیل نہیں بن سکتا اسی طرح ہر شخص مذہبی نہیں بن سکتا۔اُن میں جو لوگ مذہبی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں وہ پادری کہلاتے ہیں۔اور جو لوگ مشرقی مذاہب کے علوم کا مطالعہ کرتے ہیں وہ مستشرق کہلاتے ہیں۔اور انگریزی میں وہ اور مینٹلسٹ (ORIENTALIST ) کہلاتے ہیں۔یہ لوگ عام طور پر کالجوں کے پروفیسر یا فلاسفر ہوتے ہیں ، مشرقی علوم کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں اور مشرقی علوم کا خلاصہ کر کے کبھی کبھی رسالے کی صورت میں اپنی قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں جس سے دوسرے لوگوں کو یہ علم ہو جاتا ہے کہ مشرقی لوگ آجکل کیا کچھ کر رہے ہیں۔گویا یہ لوگ دوسرے لوگوں کے لئے بطور وکیل کے کام کرتے ہیں اور مشرقی علوم کی مسل کا خلاصہ کر کے ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اور جب وہ کسی کتاب کا خاص طور پر ذکر کرتے ہیں تو سیاستدانوں اور امراء کا طبقہ اُس میں خاص دلچسپی لینے لگتا ہے۔ایسے لوگوں کا دوسروں پر بہت زیادہ اثر ہوتا ج ہے۔اور وہ جس کتاب کے متعلق ریویو کر دیں لوگ اُسے ضرور پڑھتے ہیں۔افراد کے علاوہ دوسری چیز لائبریریاں ہیں۔یورپ اور امریکہ میں کسی اچھی کتاب کا سب سے زیادہ چر چالائبریریوں کے ذریعہ ہوتا ہے۔چونکہ وہ علمی مذاق کے لوگ ہیں اس لئے وہ مہینہ دو مہینہ کے بعد لائبریری میں ضرور جاتے ہیں۔اور لائبریری میں جا کر وہ نئی اور عجیب کتاب کے مطالعہ کی کوشش کرتے ہیں۔اور خصوصاً وہ اُس کتاب کو ضرور دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے متعلق مستشرقین نے کوئی رائے ظاہر کی ہو۔جب وہ کسی کتاب کے متعلق یہ پڑھیں گے کہ مستشرقین نے اُس کی خوبی کا اظہار کیا ہے یا اُس کے عجیب ہونے کا اظہار کیا ہے تو وہ اپنی نوٹ بک میں نوٹ کر لیں گے اور جب موقع ملے گا لائبریری میں جائیں گے اور جا کر وہی