خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 62

خطبات محمود 62 سال 1947ء اور ہر بدی اُس کے لئے ایک موت لائے گی۔ایک نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے ایک موت ہوگی۔پھر دوسری موت دوسری نماز نہ پڑنے کی وجہ سے۔اور تیسری موت تیسری نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے ہو گی۔اسی طرح جھوٹ بولنے اور بد دیانتی اور بے ایمانی کرنے کی وجہ سے اُس پر موتیں وارد ہوں گی۔پس نماز نہ پڑھنا ایک ایسا زہر ہے جو انسان کو ابد الآباد کے دوزخ میں ڈال کر اُس پر کئی موتیں وارد کرتا ہے۔اس سے بچنا چاہیئے اور نمازوں میں باقاعدگی اختیار کرنی چاہیئے۔اسی طرح سچ ایک ایسی چیز ہے جو قومی وقار کو قائم کرتا ہے اور سچ بولنے والی قوم تمام دنیا میں اپنی اس خوبی کی وجہ سے قابل تعظیم مجھی جاتی ہے۔اگر انسان سچ بولے تو دوسرا شخص مرعوب ہو جاتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ میں ساری عمر میں سوائے ایک شخص کے کسی سے مرعوب نہیں ہوا۔مجھے ایک شخص کے متعلق معلوم ہوا کہ اُس نے ایک خطا کی ہے۔وہ اکیلے کی خطا تھی۔کوئی شخص اُس پر گواہ نہ تھا۔جب مجھے اُس کی اطلاع ہوئی تو میں نے خیال کیا کہ چونکہ موقع کا گواہ کوئی ہے نہیں اس لئے وہ کہہ دے گا کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔میں نے اُسے بلایا اور پوچھا تو اُس نے صاف طور پر اقرار کیا کہ ہاں میں نے یہ خطا کی ہے۔جب اُس نے صاف طور پر اقرار کر لیا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کسی نے میرے منہ پر مہر لگا دی ہے۔میں نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہہ کر سے رخصت کر دیا۔تو گناہ میں بھی سچ ایک قسم کا غلبہ رکھتا ہے اور جھوٹ نیکی میں بھی شکست دلا تا نی ہے۔فرض کرو کہ کوئی شخص کسی کے پاس اپنا مال رکھواتا ہے اور پھر خود ہی کسی وقت وہ مال اٹھا کر لے جاتا ہے اور پوچھنے پر انکار کر دیتا ہے کہ میں نے نہیں لیا۔تو گو مال اُس کا ہی تھا لیکن وہ جھوٹ بولنے کی وجہ سے گنہگار ہو گیا۔اور ہر شخص جسے اس بات کا علم ہوگا وہ اُسے نفرت کی نگاہ سے دیکھے گا کہ اُس نے اپنا مقام ضائع کر لیا۔سچ کے یہ معنی بھی نہیں ہوتے کہ دوسرے پر ہر بات ظاہر کر دی جائے۔اور نہ ہی کوئی شخص دوسرے کو ہر ایک بات کے ظاہر کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ہاں جن باتوں کے متعلق اللہ تعالی اور اُس کا رسول حکم دیتا ہے اُن کو بیان کر دینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔گو اس کے لئے بھی کچھ پابندیاں ہیں۔مثلاً قاضی کو بھی ہر بات پوچھنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔بلکہ اس کے متعلق تعیین کر دی گئی ہے کہ قاضی اس قسم کا سوال کر سکتا ہے اور اس قسم کا سوال نہیں کرسکتا۔ہمارا خدا غفار اور ستار