خطبات محمود (جلد 28) — Page 44
سال 1947ء 44 خطبات محمود وہ کسی اور کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے قادیان میں زمین کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں آپ جلدی کوئی زمین لے لیں ۔ میرے فلاں رشتہ دار نے چھ سو روپیہ میں زمین لی تھی آپ 900 میں لے ں ۔ وہ 900 میں خرید لیتا ہے اور اُسے دو سو روپیہ نفع ہو جاتا پیہ مع ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اُسی سے وہی زمین لیں ۔ بنانے مثلاً ہزار میں خرید لیتا ہے اور پھر دوبارہ بارہ تیرہ سو میں فروخت کر دیتا ہے۔ اسی طرح یکدم چار چار، پانچ پانچ سو سے ہزار ہزار، دو دو ہزار تک زمین کی قیمتیں پہنچ جاتی ہیں ۔ اور یہ سیڑھی بنا۔ میں یہ حکمت ہوتی ہے کہ لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ اُس نے چارسو کی زمین چودہ پندرہ سو میں فروخت کی ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو یہ سب خرید و فروخت بناوٹی ہوتی ہے۔ خریدار بھی وہی ہوتا ہے اور فروخت کنندہ بھی یہی ہوتا ہے۔ اور اُس کی اس چال کو دیکھ کر لوگ اس گھبراہٹ میں کہ زمین کی قیمتیں تو بڑھ رہی ہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں ہمیں اس قیمت پر بھی زمین نہ ملے فوراً خریدنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ اس طرح وہ آپ ہی آپ قیمتیں بڑھاتے چلے جاتے ہیں اور لوگوں کو مشکلات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ یہ چیز ہے جس کا ازالہ ہونا ضروری ہے اور اس کا ازالہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم نفع کی حد بندی کر دیں اور کہہ دیں کہ تم بیشک تجارت کرو مگر تجارت کے اصول کو نظر انداز نہ کرو۔ تجارت کا اصول یہ ہے کہ روپیہ پر آنہ دو آنہ نفع لے لیا جائے ۔ یہ تو نہیں ہوتا کہ روپیہ کی چیز کے پانچ روپے وصول کئے جائیں۔ اگر ایسا کیا جائے تو یہ حض ٹوٹ ہوگی اور غرباء کو کچل دینے والی بات ہوگی ۔ پھر اُن لوگوں کو جو زمینوں کی قیمتیں نا جائز حد تک بڑھا رہے ہیں یہ بھی تو سوچنا چاہئیے کہ آخر لوگ قادیان میں کیوں زمینیں خرید رہے ہیں؟ قادیان میں لوگوں کا زمینیں خرید نا محض اِس لئے ہے کہ وہ قادیان میں ہجرت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ اگر خدا کا حکم نہ ہوتا کہ جماعت کے مخلصین قادیان میں ہجرت کر کے آئیں ، اگر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہ ہوتا کہ قادیان کو بڑھاؤ ۔ اور اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیاں قادیان کی وسعت اور اُس کی ترقی کے متعلق نہ ہوتیں تو لوگ دیوانہ وار ان سے بڑی بڑی قیمتوں پر زمینیں کیوں خریدتے ۔ وہ زمینیں خریدتے ہیں محض اس لئے کہ خدا کا حکم پورا ہو اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے پورا کرنے کے ثواب میں شریک ہوں ۔ اس اخلاص و ایمان کے ساتھ آنے والے لوگوں سے اس قدر قیمتیں وصول کرنا ایسا ہی ہے جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ بعض لوگ خدا تعالیٰ