خطبات محمود (جلد 28) — Page 37
خطبات محمود 37 سال 1947ء خیال نہیں۔پھر ایک یہ وجہ بھی قیمت کو زیادہ نہ کرنے کی تھی کہ ہم نے سمجھا کسی وقت ہماری یہ زمین دو آنے مرلہ کی بھی نہیں تھی۔اب اگر ہمیں دس روپیہ مرلہ کے ملتے ہیں تو ہمیں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئیے نہ یہ کہ قیمت کو اور زیادہ بڑھا دینا چاہئیے۔مگر میں دیکھتا ہوں اب وہی زمین لوگ سو سو ، ڈیڑھ ڈیڑھ سو بلکہ دو دو سو روپیہ مرلہ پر بیچنے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض تو اس سے بھی زیادہ روپیہ مانگتے ہیں۔بعض ایسی زمینیں جو ہم نے چار پانچ روپیہ مرلہ پر فروخت کی تھیں اس کی وقت لوگ اُن کا ہزار ہزار روپیہ مرلہ مانگ رہے ہیں۔آخر لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ جماعت کے دوست اتنا روپیہ کہاں سے لائیں۔باہر بڑے بڑے شہروں میں تو کارخانے ہوتے ہیں، گورنمنٹ کے دفاتر ہوتے ہیں، بڑی بڑی تجارت کی منڈیاں ہوتی ہیں ، اور لوگ حرام کی کمائی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے لاکھ دو لاکھ زمین یا مکان پر خرچ کر دیا تو کوئی بڑی بات نہیں۔مگر قادیان کا یہ حال نہیں۔قادیان میں آنے والے زیادہ تر غرباء ہیں اور وہ ان قیمتوں کے ہرگز متحمل نہیں ہو سکتے۔مجھے اس حالت کو دیکھ کر بعض دفعہ خیال آتا ہے کہ اگر شروع سے ہم یہ قاعدہ مقرر کر دیتے کہ کوئی زمین تجارتی اغراض کے لئے فروخت نہ ہوتا نا جائز نفع کا دروازہ نہ کھلے تو ممکن ہے یہ صورت حالات پیدا نہ ہوتی۔ہم نے سمجھا کہ قادیان کی ترقی ہو رہی ہے۔حالانکہ جو لوگ خریدار تھے اُن میں سے بعض تاجر تھے اور انہوں نے ناجائز طور پر قیمتیں بڑھا دیں۔اب میں دیکھتا ہوں کہ خود ہماری زمینیں اتنی کم رہ گئی ہیں کہ ہم اس تجارت پر کوئی خاص اثر نہیں ڈال سکتے۔اگر ہماری زمینوں کی نسبت زیادہ ہوتی تو ہوسکتا تھا کہ دبا کر رکھی جاسکتیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک قدرتی ترقی ہے اس پر کسی کا اختیار نہیں۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ کسی زمانے میں ہماری زمین کی دو آنے مرلہ بھی قیمت نہیں تھی اور پھر وہی زمین ہم نے دس روپے مرلہ پر نچی۔مگر یہ معقول قیمت تھی۔اور یہ قیمت میں ترقی ساٹھ اسی سال میں جا کر ہوئی۔بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔اُس وقت بعض لوگ کہتے تھے کہ زمین ستی دی جا رہی ہے۔مگر اب جس رنگ میں لوگوں نے قیمتیں بڑھا دی ہیں اُن کو عام ذرائع سے ہم قابو میں نہیں لا سکتے۔دوسری بات یہ ہے کہ صرف شہر کا بسنا کوئی چیز نہیں بلکہ شہر ایسے طور پر بسنا چاہئیے جس سے لوگوں کی صحتیں قائم رہیں اور وہ بیماریوں کا شکار نہ ہوں۔اسی طرح سڑکوں اور گلیوں کے لئے