خطبات محمود (جلد 28) — Page 429
سال 1947ء 429 خطبات محمود کھڑے ہوں گے۔ پس تصوف کے لحاظ سے میرا مشورہ انہیں یہی ہے کہ وہ اپنے وعدوں میں کمی نہ کریں بلکہ خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اپنے پہلے حالات کے مطابق ہی چندہ لکھوائیں ۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ مغربی پنجاب کے رہنے والوں میں سے بھی اگر کوئی شخص صرف دس روپے دینے کی طاقت رکھتا ہے تو وہ دس ہزار روپیہ چندہ لکھوا دے یہ تو دھوکا اور فریب ہوگا ۔ اور ایسا شخص ثواب کی بجائے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو گا۔ میں جو کچھ کہتا ہوں یہ ہے کہ وہ مشرقی پنجاب کا دوست جسے اللہ تعالیٰ نے پہلے اس بات کی توفیق عطا فرمائی تھی کہ وہ زیادہ چندہ دے مگر اب اس کی جائیداد کھوئی گئی ہے تو چونکہ کھوئی ہوئی چیز کے ملنے کا بہت امکان ہوتا ہے اس لئے وہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت کے مطابق وعدہ کر دے۔ پھر اگر وہ محنت اور کوشش اور عقل سے کام لے گا تو اللہ تعالیٰ اُسے اس وعدہ کو پورا کرنے کی ضرور توفیق عطا فرمادے گا اور چونکہ اُس نے اپنے وعدہ میں اضافہ بناوٹ سے نہیں کیا ہو گا بلکہ اس بناء پر وعدہ کیا ہوگا جس بناء پر وہ ہمیشہ سے وعدہ کرتا چلا آیا ہے اس لئے اگر وہ اسی حالت میں مر جائے گا تو خدا تعالیٰ اس کے پرانے فعل اور پرانی کوشش کی وجہ سے اُس کے چندہ ادا نہ کرنے کے باوجود بشرطیکہ اُس نے اپنی طرف سے ادائیگی کے لئے پوری کوشش اور جدو جہد کی ہوا سے اتنا ہی ثواب دے گا جتنا ثواب اُسے ادا کرنے کی وجہ سے ملنا تھا۔ مغربی پنجاب کے رہنے والے لوگ یا اُن علاقوں کے رہنے والے افراد جن پر وہ تباہیاں نہیں آئیں جو مشرقی پنجاب میں رہنے والوں پر آئی ہیں اُن سے میں کہتا ہوں کہ وہ اپنے وعدوں کو حسب سابق پہلے سالوں سے بڑھانے کی کوشش کریں اور نئے سے نئے افراد کو تحریک جدید کا ممبر بنائیں ۔ اس وقت بعض کاموں کی وجہ سے سات لاکھ روپیہ کا قرض تحریک جدید پر ہے جو در حقیقت جماعتی قرضہ ہے۔ بعض بوجھ تو ایسے ہیں جو ہماری اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہیں یعنی بعض کوششیں تحریک جدید کا مال بڑھانے کے لئے کی گئیں مگر وہ الٹ ثابت ہوئیں اور روپیہ ضائع ہو گیا ۔ اور بعض کوششیں اس لئے کامیاب نہیں ہو سکیں کہ ہمیں اچھے کا رکن میسر نہیں آ رہے۔ مثلاً تحریک جدید کے لئے دس ہزار ایکڑ زمین خریدی گئی ہے اور یہ نہری زمین ہے ۔ اگر اس کی صحیح قیمت ڈالی جائے تو اس وقت کی قیمتوں کے لحاظ سے یہ زمین تمیں لاکھ روپیہ کی ہے ۔ بلکہ اگر ہمیں وہ قیمت مل جائے جو اس وقت پنجاب میں زمینوں کی ہے بلکہ اُس سے آدھی بھی مل جائے تو یہ ایک کروڑ روپیہ