خطبات محمود (جلد 28) — Page 420
سال 1947ء 420 خطبات محمود سے دس دس، پندرہ پندرہ سال قبل ہوشیار کر دیا اور جن عظیم الشان کاموں کی مجھ سے بنیادیں رکھوا دیں اُن باتوں کی طرف اور کسی کا ذہن ہی نہیں گیا۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ جو کچھ ہوا خدا کی رہنمائی کے نتیجہ میں ہوا ورنہ میرا بھی ویسا ہی دماغ تھا جیسے اور لوگوں کا دماغ ہے۔ مگر ان کو یہ احتیاطیں نہ سُوجھیں اور مجھے خدا تعالیٰ نے ہر پہلو کے متعلق اپنے فضل سے صحیح راستہ پر قائم رکھا اور مجھ سے وہ کام کرائے جو آئندہ زمانہ میں جماعت کی ترقی اور اس کی اشاعت کے لئے نہایت ضروری تھے۔ اور جن کے بغیر ہماری جماعت کبھی ترقی کر ہی نہیں سکتی تھی۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ مجھے خدائی رہنمائی حاصل تھی اور یہ جو کچھ کیا دراصل خدا تعالیٰ نے ہی کیا میں نے نہیں کیا۔ تو ایمان اور یقین کے ساتھ جو قرآن سے ہی پیدا ہوتا ہے انسان کو ثبات ملتا ہے ۔ استقلال ملتا ہے، ایمان ملتا ہے اس لئے قرآن کے پڑھنے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرو ۔ جب تک تمہاری بنیاد دین پر نہیں ہو گی محض کسی عقیدہ کو مان لینا اور جماعت میں شامل ہو جانا یہ ایک دنیوی بات ہوتی ہے اور اس پر انسان کو کسی قسم کا ثواب نہیں مل سکتا ۔ تمہارے سامنے دیا سلائی کی ڈبیہ پڑی ہوتی ہے اور تم جانتے ہو کہ وہ دیا سلائی کی ڈبیہ ہے مگر کیا اس کی وجہ سے تم کسی ثواب کے حقدار ہو سکتے ہو؟ تم ایک درخت کو درخت کہتے ہو تو کیا تمہیں ثواب ملتا ہے؟ عقائد اور صداقت کا اقرار محض اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمیں پتہ لگ گیا ہے کہ خدا نے ہمیں کونسی تعلیم دی ہے یا تمہیں پتہ لگ گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھے اور صادق اور راستباز تھے۔ یہ ہی ہے جیسے تم اپنے سامنے پڑے ہوئے لوٹے کے متعلق کہتے ہو کہ وہ لوٹا ہے۔ یا درخت رخت کے متعلق کہتے ہو وہ درخت ہے۔ یا انار پڑا ہو تو کہتے ہو یہ انار ہے۔ در در حقیقت جہاں سے ایمان شروع ہوتا ہے وہ مقام وہ ہوتا ہے جب ایمانی کیفیات انسان کی زندگی کو بدل دیتی اور اس کے اندر ایک غیر معمولی تغیر پیدا کر دیا کرتی ہیں۔ جب ایسا ہو تب بے شک یہ انسانی کمال سمجھا جاتا ہے۔ لیکن صرف دیکھ کر مان لینا اور زندگی میں کسی قسم کا تغیر پیدا نہ کرنا یہ کوئی کمال نہیں ہوتا۔ ایک شخص مان لیتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب سچے ہیں یا مان لیتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں یا مان لیتا ہے کہ احمدیت سچی ہے ۔ تو یہ ایسی ہی بات ہے جیسے لوٹے کو تم لوٹا کہہ دیا کرتے ہو۔ لوٹے کو لوٹا کہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا جب تک اُس لوٹے سے فائدہ نہ اٹھایا جائے ۔ یا مثلاً کو نین کو کونین کہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ایسا ہی۔