خطبات محمود (جلد 28) — Page 397
خطبات محمود 397 سال 1947ء سے آدمی سے وہ مخصوص آدمی مراد ہوتا ہے جس کی طرف ہم اشارہ کر رہے ہوتے ہیں۔اگر ہم کہیں گے کہ آدمی باہر کھڑا ہے اُسے خط دے آؤ۔تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ زید یا بکر باہر کھڑا ہے اسے خط دے آؤ۔لیکن اگر دوسرے وقت ہم یہ کہیں کہ بے انتہا آدمی اس مجلس میں جمع ہیں تو اس کے یہ معنی نہیں ہونگے کہ کل والا آدمی جو دروازہ میں کھڑا تھا اسی قسم کے اور ہزاروں آدمی پیدا ہو گئے ہیں۔ایک جگہ لفظ آدمی ایک خاص آدمی کی طرف اشارہ کر رہا ہو گا اور دوسری جگہ لفظ آدمی ہزاروں آدمیوں کی طرف اشارہ کر رہا ہو گا۔جب ہم کہتے ہیں کہ رنگترہ چار پائی پر پڑا ہوا ہے اسے اٹھالا ؤ۔تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ رنگترہ کی جنس میں سے ایک عدد پھل جو چار پائی پر پڑا ہے اسے اٹھا لاؤ۔لیکن دوسرے وقت اس لفظ کے استعمال کرنے کے معنی ہوں گے کہ اس جنس کے دوسرے افراد۔کیونکہ لفظ رنگترہ کے بہت سے افراد ہوتے ہیں۔جس طرح آم کے بہت سے افراد ہیں ، آڑو کے بہت سے افراد ہیں ، سیب کے بہت سے افراد ہیں، امرود کے بہت سے افراد ہیں۔اسی طرح لفظ عورت کے بہت سے افراد ہیں۔لفظ بچہ کے بہت سے افراد ہیں۔عورت بیٹی سے کہتی ہے کہ بچہ رو رہا ہے۔جاؤ اور اسے گودی میں اٹھاؤ۔اُس وقت اگر وہ گلی سے کسی بچہ کو اٹھالے اور کہے کہ تم نے صرف بچہ کہا تھا اور بچہ سے یہ بچہ بھی مراد ہو سکتا ہے تو وہ بے وقوف ہی ہوگی۔لیکن دوسرے وقت جب بچے شرارت کر رہے ہوتے ہیں تو عورت کہتی ہے کہ بچے شرارت کر رہے ہیں انہیں منع کرو۔اُس وقت اگر وہ یہ کہے کہ یہ عجیب امر ہے کہ کل ایک بچہ کہا تھا اور آج بچے کہتی ہو۔تو یہ اس کی اپنی حماقت ہوگی۔کیونکہ جب اس نے بچہ کہا تھا تو اس کے معنی تھے کہ وہ بچہ جس کو تم جانتے ہے ہو۔اور جب اس نے بچے کہا تو اس کے معنی یہ تھے کہ محلہ کے بچے یا دوسرے بچے جو شرارت کر رہے ہیں۔پہلے موقع پر بچے سے مراد خاص بچہ تھا اور دوسرے وقت اس سے مراد عام بچے تھے۔دجال کے معنی ہوتے ہیں ملمع سازی کرنے والا ، دھوکا بازی کرنے والا ، جھوٹ بولنے والا۔جو قوم بھی ملمع سازی سے کام لیتی ہے، دھوکا بازی کرتی ہے، فریب کاری کا ارتکاب کرتی ہے وہ دجال ہے۔پس لفظ دقبال سے جہاں ایک خاص گروہ مراد ہو گا جو پادریوں کا ہے وہاں دقبال کے لغوی معنوں کے لحاظ سے وہ تمام افراد مراد ہوں گے جو دھوکا بازی کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے اور فریب کا ارتکاب کرتے ہیں۔جب خدا نے مجھے فرمایا کہ إِنَّمَا اُنْزِلَتِ