خطبات محمود (جلد 28) — Page 385
خطبات محمود 385 40 سال 1947ء تم میں سے ہر شخص اَصْحَابِي كَالنُّجُومِ کا نمونہ بن سکتا ہے بشرطیکہ تم دین کو سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے کیلئے ہر وقت کمر بستہ رہو فرموده 7 نومبر 1947 ء بمقام رتن باغ لاہور ) تشهد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی چیزیں جن کو قانونِ قدرت پیدا کرتا ہے وہ سب کی سب اپنے منزل مقصود تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوا کرتیں۔کچھ تو اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہیں اور کچھ ضائع ہو جاتی ہیں۔درختوں کو مو ر آتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ سا را درخت مو ر 1 سے بھر گیا ہے۔اگر وہ تمام کا تمام مور پھل بن جائے اور وہ سب کا سب پھل پختہ ہو جائے تو یقینا درخت کے ٹکڑے ٹکڑے اُڑ جائیں۔مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ دار الحمد کوٹھی میں ٹہل رہا تھا اور ایک نیا مالی جو کچھ عرصہ ہندوستان بھی رہا تھا اور باتیں کرنے میں بڑا ہوشیار تھا وہ بھی میرے ساتھ پھر رہا تھا۔میں نے اُس وقت چکوترا 2 کا ایک درختی دیکھا جس میں نہایت کثرت سے پھل لگ رہا تھا۔ابھی اس کے پھل کا ابتدائی زمانہ تھا اور وہ بہت چھوٹے چھوٹے دانوں کی شکل میں تھا جیسے ماش کا دانہ ہوتا ہے۔مور گر رہا تھا اور نیچے سے پھل نکل رہا تھا اور وہ لاکھوں ہی کی تعداد میں نظر آتا تھا۔میں نے اس پھل کو دیکھ کر تعجب کیا اور کہا تھ کہ اگر اتنا پھل لگ جائے اور آخر تک سلامت رہے تو درخت بیچ نہیں سکتا۔جیسے بعض آدمیوں کی ہے عادت ہوتی ہے کہ بات سن کر وقت سے پہلے ہی بول پڑتے ہیں یہی عادت اُس مالی کی بھی تھی۔