خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 373

سال 1947ء 373 خطبات محمود اٹل قانون تھا اور اس کا جاری ہونا ضروری تھا۔ یہ اٹل قانون یہی ہے کہ انبیاء کی جماعتیں بغیر عظیم الشان ابتلاؤں کے ترقی نہیں کیا کرتیں ۔ آج تک کوئی ایک نبی بھی دنیا میں ایسا نہیں گزرا جس کی جماعت نے ہجرت نہ کی ہو۔ جسے ماریں نہ پڑیں ہوں ۔ جسے قتل نہ کیا گیا ہو۔ جسے صلیبوں پر نہ لڑکا یا گیا ہو۔ اور جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کے مطابق بعض دفعہ آروں سے نہ چیرا گیا ہو۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کے پاؤں رسیوں کے ساتھ اونٹوں سے باندھ دیئے جاتے ۔ اور پھر ان اونٹوں کو مخالف اطراف میں دوڑا کر اُن کو چیر دیا جاتا۔ اسی طرح عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر اُن کو مارا جاتا۔ مال و اسباب اور جائیدادوں کا نقصان لو ۔ تو یہ بھی انہیں پہنچا۔ ان کے مال لوٹے گئے ، ان کی جائیدادوں پر قبضہ کر لیا گیا اور ان کا اسباب ان سے چھین لیا گیا۔ یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فاتحانہ طور پر مکہ میں داخل ہوئے تو صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کسی گھر میں ٹھہریں گے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تم مجھ سے کیا پوچھتے ہو کہ میں کسی گھر میں ٹھہروں گا ۔ کیا میرے عزیزوں نے میرے لئے کوئی گھر چھوڑا ہے؟ 6 تو دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی گھر بھی نہ رہا اور خدائی تقدیر پوری ہوئی ۔ اسی طرح ہم پر خدا تعالیٰ کی ایک اٹل تقدیر جاری ہوئی ہے ۔ لوگ سمجھتے تھے کہ محض چندے دے کر وہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیں گے ۔ حالانکہ چندوں کا جو کچھ حال ہے وہ میں ابھی بیان کروں گا ۔ پھر بھی وہ سمجھتے تھے کہ چند روپے دے کر وہ متقی اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو جائیں گے انہیں کوئی مزید قربانی نہیں کرنی پڑے گی ۔ وہ اس سلسلہ کو سلسلہ الہٰیہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے ایک ایسوسی ایشن سمجھتے تھے۔ ویسی ہی ایسوسی ایشن جیسے ریڈ کراس وغیرہ ۔ حالانکہ نبیوں کی جماعتیں کبھی پیسے جانے ، مٹائے جانے اور ہر قسم کے دکھ اور عذاب دیئے جانے کے بغیر پنپ نہیں سکتیں ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انبیاء کی ماعتوں میں جو کیریکٹر اللہ تعالی پیدا کرنا چاہتا ہے وہ بغیر مار کے، ان کا ٹھر کس نکال دینے کے اور کسی طرح پیدا ہی نہیں ہو سکتا ۔ اس وقت ہی دیکھ لو ۔ جماعت پر کتنا بڑا ابتلاء آیا ہے۔ مگر پھر بھی یہ حالت ہے کہ بعض لوگ یہاں آکر چوریاں کرتے پھرتے ہیں ۔ انہیں اتنا خیال نہیں آتا کہ وہ ریاں کرتے پھرتے ہیں ۔ انہیں اتنا خیال نہیں آتا کہ