خطبات محمود (جلد 28) — Page 371
خطبات محمود 371 سال 1947ء گزری ہوتی ہے۔یہ تو آیات کا حال ہے۔اگر آیات کا مضمون ان سے دریافت کیا جائے تو بہت ہی کم حفاظ بتانے کی استعداد رکھتے ہیں۔اور اگر بتا دیں تو پھر انہیں یہ پتہ نہیں لگتا کہ یہ آیات کن مضامین کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔حافظ روشن علی صاحب مرحوم جب تک زندہ رہے۔میرا طریق یہ تھا کہ جب بھی تقریر کے لئے نوٹ تیار کرتا حافظ صاحب کو پاس بٹھا لیتا اور کہتا کہ حافظ صاحب ! فلاں فلاں مضامین کی آیات بتاتے جائیں میں نوٹ کرتا جاؤں گا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ لا ہور میں ہی میری تقریر تھی۔میں قریباً دو گھنٹہ تک اُن سے متعدد امور کے متعلق آیات دریافت کرتا رہا۔جب پوچھ چکا ہے تو 15 ،20 آیتیں انہوں نے لکھوا دیں۔تو حافظ صاحب کہنے لگے آپ نے مجھ سے اتنا کام لیا لی ہے اب یہ تو بتائیں کہ آپ کا مضمون کیا ہے اور ان آیات سے آپ کیا ثابت کریں گے۔میں نے کہا یہ میں وہاں تقریر میں چل کر بتاؤں گا پہلے نہیں۔تو باوجود آیتیں پوچھنے کے پھر بھی انسان کا ذہن اس طرف منتقل نہیں ہوتا کہ ان آیات سے کیا استدلال کیا جائے گا یا کس غرض کے لئے انہیں استعمال کیا جائے گا۔جیسے میں نے ساری آیتیں حافظ صاحب سے پوچھیں۔مگر حافظ صاحب نے بعد میں کہہ دیا کہ مجھے تو کچھ بھی پتہ نہیں لگا کہ آپ نے کیا مضمون بیان کرنا ہے۔حالانکہ انہیں قرآن کریم حفظ تھا اور رات دن حفظ قرآن ہی ان کا کام تھا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی بے شک قرآن کریم حفظ تھا مگر یہ علم کہ فلاں آیت کا ٹکڑا فلاں مقام پر رکھا جائے اور فلاں ٹکڑا فلاں مقام پر۔یہ علم انسانی طاقت سے بالا ہے۔اور یقیناً عالم الغیب ہستی ہی ایسا کر سکتی تھی اور اسی نے قرآن کریم کو یہ ترتیب بخشی ہے کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم تھیں پاروں میں پھیلا ہوا ہے اور باوجود اس کے کہ قرآنی آیات مختلف وقتوں میں نازل ہوئیں پھر بھی ایک خاص ترتیب تمام آیات اور تمام سورتوں میں پائی جاتی ہے۔اور جب کوئی خاص مضمون ایک جگہ بیان کرنے کے بعد کسی آیت کا ذکر کیا گیا ہے تو دوسری جگہ پر اگر پھر وہی مضمون بیان کرنا پڑا ہے تو اُسی آیت کو دُہرا دیا گیا ہے۔جیسے یہ آیت ذَالِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الرَّحِيم۔یہ ایک خاص مضمون کے بعد ہر مقام پر بیان ہوئی ہے۔ایک مقام پر خدا تعالیٰ کا قانون جو نظام عالم کے متعلق ہے اس کا ذکر کرنے اور سورج اور چاند کا ایک خاص حسار